Tuesday, March 23, 2021
Tuesday, August 15, 2017
جنگ آزادی میں مسلمانوں اور مدارس کی قربانیوں کا صلہ!
ڈاکٹرمیم ضاد فضلی
اس سال مؤرخہ 15اگست 2017کوہم وطن عز یز کی آزادی کی سترو یں سالگرہ منا رہے ہیں۔بحیثیت ایک ہندوستا نی ہم پر فر ض ہے کہ اپنے ملک کی آزادی کا اجتماعی اورانفرادی طور پرجشن بلاامتیاز مذہب و مسلک ،رنگ و زبان اورعلاقا ئی فرق کے منائیں،یہ ملک کے تمام شہریوں کا فرض اور ذمہ داری ہے۔اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ 15اگست 1947کی نصف شب کے وقت عظیم ہندوستان کو انگریز ی استبداد سے نجات ملنے کے بعد جلائی گئی شمع آزادی کی چکاچوندھ روشنی میں خوشیاں منانے والے ہندوستانیوں میں بلاامتیاز وہ تمام شہری پیش پیش تھے جو اپنے آزاد وطن سے اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبت کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔
مگرغالباً یہ مذہبی منافرت کے عفریت کی منصوبہ بندی ہے کہ جشن آزادی کے موقع پرجد وجہد آزادی کیلئے اپنا تن من دھن ،حتی کہ اپنے جگرکے ٹکڑوں تک کو قربان کردینے والے جیالوں اور قائدین کو منظم سازش کے تحت دھرم کی عینک سے دیکھا جانے لگا ہے ۔ مجاہدین آزادی کو اس یادگار تقریب میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے رنگ و نسل اور ذات پات کے علاوہ مذہب کے چشمے سے دیکھنے کا یہ عمل سابق وزیر اعظم اور ملک کے سیکولرزم کو لہو لہان کرنے والے سب سے بڑے گنہ گار نرسمہا راؤ کے زمانے میں ہی شروع ہوا تھا۔پھر بعد کے ادوار میں اقتدار پر تسلط حاصل کرنے والی طاقتیں اپنی اپنی پالیسیوں کے مطابق اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھاتی رہیں۔نتیجہ کار این ڈی اے کے اقتدارمیں آتے ہی جن قائدین کو خراج عقیدت پیش کیا جانے لگا ،ان کے ذریعہ ترتیب دی جانے والی مجاہدین آزادی کی فہرست میں خاص طور پر اقلیتوں اور دلت مجاہدین کی چھنٹنی شروع ہوگئی ۔بالآ خر اس بڑی آبادی کے صرف چند نام ہی حکومت ہند کو یاد رہ سکے،جبکہ بڑی ذاتوں اور سنگھی وڈیروں کی فہرست لمبی ہوگئی ۔اس کے ساتھ یہ مجرمانہ سازش بھی شروع ہوگئی کہ جن لوگو ں، طبقات ،برادری اور تنظیموں نے کھل کرمجاہدین آزادی کی مخالفت کی،صعوبت خانوں میں انگریز وں کی حیوانیت کا نشانہ بننے والے وطن کی محبت سے شرشار مجاہدین کی حوصلہ شکنی کی انہیں پکا محب وطن اور مجاہد آزادی کاتمغہ دیا جا نے لگا۔جن منحوس لوگوں اور تنظیموں نے انگریزی آ قاؤ ں کے قدموں میں سجدے کئے اور وطن کیلئے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کرنے والے جیالوں کی جگہ ان لوگوں کوہی جنگ آزادی کا ہیرو بناکر پیش کرنے کی مذموم کوششیں کی گئیں اور اس غیرانسانی حرکت کوانجام دیتے ہو ئے شرم وحیا کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ 10اگست2017کو پارلیمنٹ کے اندر’’بھارت چھوڑو تحریک ‘‘کی 75ویں سالگرہ کی تقریب منعقد کی گئی ۔اس تاریخی جشن میں وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب فرماتے ہوئے اس تحریک میں دیگر رہنماؤ ں کے ساتھ سنگھ کے متعددسنگھی کار سیوکوں کا نام بھی جوڑ دیاجو ہمیشہ مجاہدین آزادی کی حوصلہ افزائی کرنے ان کی مدکرنے کی بجائے اپنی زندگی بیشتر حصہ انگریزی میموں کی جوتیاں چاٹنے اور برطانوی لشکر کیلئے مخبری کے فرائض انجام دیتے رہے ۔جبکہ جنگ آزادی یا ’’بھارت چھوڑو تحریک ‘‘ کے قائدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ملک کے اولین وزیر اعظم اور جنگ آزادی کے قد آور لیڈر بابائے قوم مہاتما گا ندھی کے مشیر خاص اور دست راست پنڈت جواہر لعل نہرو کاوزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار بھی نام نہیں لیا۔
ظاہر سی بات ہے کہ سنگھ اور اس کے بیشتر سیوک جو انگریزوں کی غلامی میں رہنے کو ہی تسلیم کرچکے تھے اور مجاہدین آزادی کی ہر موقع پر مخالفت کررہے تھے،عوام میں مجاہدین آزادی کیخلاف بد ظنی پھیلانے کی برطانوی پالیسی پر عمل پیرا تھے، اگر ایسی قوتوں کو خراج عقیدت پیش کیا جانے لگے تو اس سے ساری دنیا میں ہندوستان کی پشیمانی ہوگی اور انصاف پسند وغیرجانب دار عالمی مؤرخین حکومت ہند کی باتوں پر بھروسہ نہیں کریں گے۔اس سے ملک کی ساکھ اور وقار مجروح ہوگا یا نہیں آنے والا وقت موجودہ حکومت سے اس کا جواب خود مانگ لے گا۔
10 اگست کی تقریب میں کانگریس چیئرپرسن اور حزب اختلاف کی مضبوط لیڈر محترمہ سونیا گاندھی نے وزیر اعظم کی بے بنیاد لن ترانی کاجواب دیتے ہوئے عین موقع پر ان کا جھوٹ پکڑ کر ایوان کوہی نہیں ،بلکہ ساری دنیا کو حیرت زدہ کردیا تھا۔انہوں نے انگریزوں کی سب سے بڑی حامی فرقہ پرست تنظیم آر ایس ایس کا نام لئے بغیرطنز کرتے ہوئے کہا کہ ’آزادی کی تحریک کی کچھ لیڈروں اور تنظیموں نے شدید مخالفت کی تھی۔اس طنز میں راست طور پر محترمہ سو نیا گا ندھی کادرپردہ اشارہ سنگھ اور اس کے چند قدآور لیڈروں کی جانب تھا ،جن کی کالی کرتوت آج بھی انصاف پسند غیر ملکی مؤرخین کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔
بعد ازاں مورخہ11اگست2017کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ مسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے مدارس پر شبہات کی بندوق کی نالیں تان دیں۔انہوں نے اپنے حکمنامے میں ضلع اقلیتی بہبود افسران کو ہدایت دی کہ تمام مدارس کو یہ پیغام پہنچا یا جائے کہ ضلع کے تمام مدارس میں یقینی طورپر آزادی کا جشن منعقد کیا جائے اور اس میں قومی ترانہ،بشمول قومی پرچم ’’ترنگا‘‘ لہرا کراس کی ویڈیو ریکارڈنگ ضلع افسران کے سپرد کیا جائے۔اسی طرح مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ نے ریاست کے تمام رجسٹرڈ مدارس کو حکم جاری کرکے مدارس کے منتظمین اورمدرسوں میں پڑھنے والے طلباء کو یوم آزادی کے میں جشن مختلف شہروں میں ’’ترنگا ریلی‘‘منعقد کرنے یا پہلے سے منعقد ہونے والی ریلی میں ضرور شر کت کا حکم دیاہے۔ اس کے علاوہ، مدرسہ بورڈ نے تمام مدارس کے منتظمین کو یہ بھی حکم دیا کہ یوم آزادی کے موقع پر وہ اپنے اپنے مدارس میں قومی پرچم لہرائیں اورثقافتی پروگرام منعقد کریں اور ان تمام پروگراموں کی تصویر مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈکے دفترکوبھیجیں۔ یہ حکم مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ نے پردیش کے تمام مدارس کو 10 اگست 2017 کو جاری کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ، تمام مدارس کوہدایات دی گئی ہیں کہ یوم آزادی کے موقع پراپنے اپنے مدارس میں قومی پرچم لہرائیں اور ثقافتی پروگرام کویقینی بنائیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بی جے پی کے زیرقیادت مدھیہ پردیش کی حکومت کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی ہدایت پر ہی وہاں یہ حکمنامہ جاری کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ مدارس اسلامیہ 15اگست یوم آزادی یا 26جنوری ’’یوم جمہوریہ‘‘ کی تقریب منعقد کرنے کیلئے مسٹر یوگی یا شیو راج سنگھ چوہان کے مذہبی منافرت کے زہر میں بجھی کسی ہدایت کے محتاج نہیں ہیں۔بلکہ انہیں مدارس کے بوریہ نشینوں نے ایسے وقت میں انگریزوں کے پیروں تلے زمین ہلادی تھی اور کسی بھی موقع انگریزوں کی ملازمت کو قبول کرنے یا انگریزی فوج میں شامل ہونے کو حرام قراردیتے ہوئے بہت سارے گمراہ ہندوستانی جوانوں کو انگریزوں کا آلۂ کار بننے سے بچا لیا تھا،لہذ مسٹر یوگی یا چوہان جن کے پرکھوں کی انگریز نوازی کے تذکرے تاریخ کے سینے میں آج بھی محفوظ ان نفرت کے پجاریوں مدارس اسلامیہ کو حب الوطنی کا درس دینے کا کوئی اخلاقی حق بھی حاصل نہیں ہے۔بلکہ یوگی اور چوہان کو تو اپنے گھرکی سدھ لینی چاہئے جہاں ملک کے غداری کے کارخانے چلائے جاتے ہیں چناں چہ مدھیہ پردیش سے آ ئی ایس آئی کے کال سینٹر چلانے والے بھاجپائی لوگوں کس کا آشیرواد حاصل ہے یہ بات مسٹر چوہان بخوبی جانتے ہوں گے۔ابھی ایک ڈیڑھ ماہ پہلے ہی لشکر طیبہ کا ایک ہندورکن کشمیر سے گرفتار کیا گیا تھا جو ملک میں دہشت پھیلانے کیلئے لشکر طیبہ کی مدد کررہا تھا۔میں یوگی آدتیہ ناتھ ،شیو سنگھ چوہان ،وزیراعظم نریندر مودی اور پوری مرکزی حکومت کو واضح طور پر بتادینا چاہتا ہوں کہ کہ تم لوگوں نے جن بے گناہ طلباء کرام کو نشانے پر لیا ہے وہ اپنی ساری عمر علمی درسگاہوں حب الوطنی اور انسانیت نوازی کے اسباق کی رٹا کرتے ہیں،لہذ ایا د رکھوکہ یہ بے گناہ اور معصوم بچے ہیں۔ مدارس کے طلبا کو بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کرکے اس سازش کو سچ ثابت کرنے میں قیامت کی صبح تک تمہیں کوئی کامیابی نہیں ملے گی ،اس لئے کہ مدارس میں دہشت گردی کی کوئی سر گرمی پائی ہی نہیں جاتی ہے، اور نہ کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی حمایت کی جاتی ہے۔مسٹر یوگی ،مسٹر چوہان اور وزیر اعظم نریندرمودی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ متعدد مرتبہ دہشت گردی کی چھان بین کرنے والے کھوجی صحا فی حضرات آر ایس ایس،ہندو یووا واہنی اور رام سینا جیسی تشدد پسند تنظیموں کو پورے ثبوت کے ساتھ ’’دہشت گردی کی نرسری ‘‘قراردے چکے ہیں۔جبکہ بجرنگ دل کی دہشت گردی کی ساری روداد تو سلامتی کونسل تک پہنچ چکی ہے۔اس کے برخلاف این ڈی اے کے دور حکومت 2002تا2006میں مدارس کا طویل سروے کرانے کے بعد مسلم دشمنی کیلئے معروف اور اقلیتوں کے مشہور مخالف سابق وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی نے میڈیا کے سامنے جانچ کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد برملا کہا تھا کہ ملک کی کسی اسلامی تعلیم گاہ ،یعنی مسلمانوں کے دینی مدارس میں دہشت گردی کی نہیں بلکہ، خالص حب الوطنی اور انسانیت کی خدمت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ میرے خیال سے یوگی آدتیہ ناتھ ، شیوراج سنگھ چوہان اور مودی جی کو اڈوانی جی کا یہ ’’پروچن‘‘ بار بار سننا چاہئے ،تاکہ ان کے دلوں سے دھرم کے نام پر نفرت پھیلا نے والی گندگی پوری طرح صاف ہوجائے۔
یہ بات یادرکھئے کہ تاریخ ہمیشہ فاتح اور طاقتور قوموں کی ہواکرتی ہے۔جبکہ کمزوروں کی تمام قربانیوں جدو جہد اور وطن پرستی کے کارناموں کوہمیشہ جان بوجھ کر مٹادیا جاتا ہے ۔اس کیلئے کمزور قوموں کے ارباب دانش اور سرمایہ داروں کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی قربانیوں اور اثاثوں کو محفوظ کرنے کیلئے ہر قسم کا ایثار پیش کرکے اپنی قوم کی قربانیوں کوفراموش کرانے والی سازشوں کو ناکام بنائیں اورعنداللہ ماجور ہوں۔
9911587378
اس سال مؤرخہ 15اگست 2017کوہم وطن عز یز کی آزادی کی سترو یں سالگرہ منا رہے ہیں۔بحیثیت ایک ہندوستا نی ہم پر فر ض ہے کہ اپنے ملک کی آزادی کا اجتماعی اورانفرادی طور پرجشن بلاامتیاز مذہب و مسلک ،رنگ و زبان اورعلاقا ئی فرق کے منائیں،یہ ملک کے تمام شہریوں کا فرض اور ذمہ داری ہے۔اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ 15اگست 1947کی نصف شب کے وقت عظیم ہندوستان کو انگریز ی استبداد سے نجات ملنے کے بعد جلائی گئی شمع آزادی کی چکاچوندھ روشنی میں خوشیاں منانے والے ہندوستانیوں میں بلاامتیاز وہ تمام شہری پیش پیش تھے جو اپنے آزاد وطن سے اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبت کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔
مگرغالباً یہ مذہبی منافرت کے عفریت کی منصوبہ بندی ہے کہ جشن آزادی کے موقع پرجد وجہد آزادی کیلئے اپنا تن من دھن ،حتی کہ اپنے جگرکے ٹکڑوں تک کو قربان کردینے والے جیالوں اور قائدین کو منظم سازش کے تحت دھرم کی عینک سے دیکھا جانے لگا ہے ۔ مجاہدین آزادی کو اس یادگار تقریب میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے رنگ و نسل اور ذات پات کے علاوہ مذہب کے چشمے سے دیکھنے کا یہ عمل سابق وزیر اعظم اور ملک کے سیکولرزم کو لہو لہان کرنے والے سب سے بڑے گنہ گار نرسمہا راؤ کے زمانے میں ہی شروع ہوا تھا۔پھر بعد کے ادوار میں اقتدار پر تسلط حاصل کرنے والی طاقتیں اپنی اپنی پالیسیوں کے مطابق اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھاتی رہیں۔نتیجہ کار این ڈی اے کے اقتدارمیں آتے ہی جن قائدین کو خراج عقیدت پیش کیا جانے لگا ،ان کے ذریعہ ترتیب دی جانے والی مجاہدین آزادی کی فہرست میں خاص طور پر اقلیتوں اور دلت مجاہدین کی چھنٹنی شروع ہوگئی ۔بالآ خر اس بڑی آبادی کے صرف چند نام ہی حکومت ہند کو یاد رہ سکے،جبکہ بڑی ذاتوں اور سنگھی وڈیروں کی فہرست لمبی ہوگئی ۔اس کے ساتھ یہ مجرمانہ سازش بھی شروع ہوگئی کہ جن لوگو ں، طبقات ،برادری اور تنظیموں نے کھل کرمجاہدین آزادی کی مخالفت کی،صعوبت خانوں میں انگریز وں کی حیوانیت کا نشانہ بننے والے وطن کی محبت سے شرشار مجاہدین کی حوصلہ شکنی کی انہیں پکا محب وطن اور مجاہد آزادی کاتمغہ دیا جا نے لگا۔جن منحوس لوگوں اور تنظیموں نے انگریزی آ قاؤ ں کے قدموں میں سجدے کئے اور وطن کیلئے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کرنے والے جیالوں کی جگہ ان لوگوں کوہی جنگ آزادی کا ہیرو بناکر پیش کرنے کی مذموم کوششیں کی گئیں اور اس غیرانسانی حرکت کوانجام دیتے ہو ئے شرم وحیا کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ 10اگست2017کو پارلیمنٹ کے اندر’’بھارت چھوڑو تحریک ‘‘کی 75ویں سالگرہ کی تقریب منعقد کی گئی ۔اس تاریخی جشن میں وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب فرماتے ہوئے اس تحریک میں دیگر رہنماؤ ں کے ساتھ سنگھ کے متعددسنگھی کار سیوکوں کا نام بھی جوڑ دیاجو ہمیشہ مجاہدین آزادی کی حوصلہ افزائی کرنے ان کی مدکرنے کی بجائے اپنی زندگی بیشتر حصہ انگریزی میموں کی جوتیاں چاٹنے اور برطانوی لشکر کیلئے مخبری کے فرائض انجام دیتے رہے ۔جبکہ جنگ آزادی یا ’’بھارت چھوڑو تحریک ‘‘ کے قائدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ملک کے اولین وزیر اعظم اور جنگ آزادی کے قد آور لیڈر بابائے قوم مہاتما گا ندھی کے مشیر خاص اور دست راست پنڈت جواہر لعل نہرو کاوزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار بھی نام نہیں لیا۔
ظاہر سی بات ہے کہ سنگھ اور اس کے بیشتر سیوک جو انگریزوں کی غلامی میں رہنے کو ہی تسلیم کرچکے تھے اور مجاہدین آزادی کی ہر موقع پر مخالفت کررہے تھے،عوام میں مجاہدین آزادی کیخلاف بد ظنی پھیلانے کی برطانوی پالیسی پر عمل پیرا تھے، اگر ایسی قوتوں کو خراج عقیدت پیش کیا جانے لگے تو اس سے ساری دنیا میں ہندوستان کی پشیمانی ہوگی اور انصاف پسند وغیرجانب دار عالمی مؤرخین حکومت ہند کی باتوں پر بھروسہ نہیں کریں گے۔اس سے ملک کی ساکھ اور وقار مجروح ہوگا یا نہیں آنے والا وقت موجودہ حکومت سے اس کا جواب خود مانگ لے گا۔
10 اگست کی تقریب میں کانگریس چیئرپرسن اور حزب اختلاف کی مضبوط لیڈر محترمہ سونیا گاندھی نے وزیر اعظم کی بے بنیاد لن ترانی کاجواب دیتے ہوئے عین موقع پر ان کا جھوٹ پکڑ کر ایوان کوہی نہیں ،بلکہ ساری دنیا کو حیرت زدہ کردیا تھا۔انہوں نے انگریزوں کی سب سے بڑی حامی فرقہ پرست تنظیم آر ایس ایس کا نام لئے بغیرطنز کرتے ہوئے کہا کہ ’آزادی کی تحریک کی کچھ لیڈروں اور تنظیموں نے شدید مخالفت کی تھی۔اس طنز میں راست طور پر محترمہ سو نیا گا ندھی کادرپردہ اشارہ سنگھ اور اس کے چند قدآور لیڈروں کی جانب تھا ،جن کی کالی کرتوت آج بھی انصاف پسند غیر ملکی مؤرخین کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔
بعد ازاں مورخہ11اگست2017کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ مسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے مدارس پر شبہات کی بندوق کی نالیں تان دیں۔انہوں نے اپنے حکمنامے میں ضلع اقلیتی بہبود افسران کو ہدایت دی کہ تمام مدارس کو یہ پیغام پہنچا یا جائے کہ ضلع کے تمام مدارس میں یقینی طورپر آزادی کا جشن منعقد کیا جائے اور اس میں قومی ترانہ،بشمول قومی پرچم ’’ترنگا‘‘ لہرا کراس کی ویڈیو ریکارڈنگ ضلع افسران کے سپرد کیا جائے۔اسی طرح مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ نے ریاست کے تمام رجسٹرڈ مدارس کو حکم جاری کرکے مدارس کے منتظمین اورمدرسوں میں پڑھنے والے طلباء کو یوم آزادی کے میں جشن مختلف شہروں میں ’’ترنگا ریلی‘‘منعقد کرنے یا پہلے سے منعقد ہونے والی ریلی میں ضرور شر کت کا حکم دیاہے۔ اس کے علاوہ، مدرسہ بورڈ نے تمام مدارس کے منتظمین کو یہ بھی حکم دیا کہ یوم آزادی کے موقع پر وہ اپنے اپنے مدارس میں قومی پرچم لہرائیں اورثقافتی پروگرام منعقد کریں اور ان تمام پروگراموں کی تصویر مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈکے دفترکوبھیجیں۔ یہ حکم مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ نے پردیش کے تمام مدارس کو 10 اگست 2017 کو جاری کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ، تمام مدارس کوہدایات دی گئی ہیں کہ یوم آزادی کے موقع پراپنے اپنے مدارس میں قومی پرچم لہرائیں اور ثقافتی پروگرام کویقینی بنائیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بی جے پی کے زیرقیادت مدھیہ پردیش کی حکومت کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی ہدایت پر ہی وہاں یہ حکمنامہ جاری کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ مدارس اسلامیہ 15اگست یوم آزادی یا 26جنوری ’’یوم جمہوریہ‘‘ کی تقریب منعقد کرنے کیلئے مسٹر یوگی یا شیو راج سنگھ چوہان کے مذہبی منافرت کے زہر میں بجھی کسی ہدایت کے محتاج نہیں ہیں۔بلکہ انہیں مدارس کے بوریہ نشینوں نے ایسے وقت میں انگریزوں کے پیروں تلے زمین ہلادی تھی اور کسی بھی موقع انگریزوں کی ملازمت کو قبول کرنے یا انگریزی فوج میں شامل ہونے کو حرام قراردیتے ہوئے بہت سارے گمراہ ہندوستانی جوانوں کو انگریزوں کا آلۂ کار بننے سے بچا لیا تھا،لہذ مسٹر یوگی یا چوہان جن کے پرکھوں کی انگریز نوازی کے تذکرے تاریخ کے سینے میں آج بھی محفوظ ان نفرت کے پجاریوں مدارس اسلامیہ کو حب الوطنی کا درس دینے کا کوئی اخلاقی حق بھی حاصل نہیں ہے۔بلکہ یوگی اور چوہان کو تو اپنے گھرکی سدھ لینی چاہئے جہاں ملک کے غداری کے کارخانے چلائے جاتے ہیں چناں چہ مدھیہ پردیش سے آ ئی ایس آئی کے کال سینٹر چلانے والے بھاجپائی لوگوں کس کا آشیرواد حاصل ہے یہ بات مسٹر چوہان بخوبی جانتے ہوں گے۔ابھی ایک ڈیڑھ ماہ پہلے ہی لشکر طیبہ کا ایک ہندورکن کشمیر سے گرفتار کیا گیا تھا جو ملک میں دہشت پھیلانے کیلئے لشکر طیبہ کی مدد کررہا تھا۔میں یوگی آدتیہ ناتھ ،شیو سنگھ چوہان ،وزیراعظم نریندر مودی اور پوری مرکزی حکومت کو واضح طور پر بتادینا چاہتا ہوں کہ کہ تم لوگوں نے جن بے گناہ طلباء کرام کو نشانے پر لیا ہے وہ اپنی ساری عمر علمی درسگاہوں حب الوطنی اور انسانیت نوازی کے اسباق کی رٹا کرتے ہیں،لہذ ایا د رکھوکہ یہ بے گناہ اور معصوم بچے ہیں۔ مدارس کے طلبا کو بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کرکے اس سازش کو سچ ثابت کرنے میں قیامت کی صبح تک تمہیں کوئی کامیابی نہیں ملے گی ،اس لئے کہ مدارس میں دہشت گردی کی کوئی سر گرمی پائی ہی نہیں جاتی ہے، اور نہ کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی حمایت کی جاتی ہے۔مسٹر یوگی ،مسٹر چوہان اور وزیر اعظم نریندرمودی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ متعدد مرتبہ دہشت گردی کی چھان بین کرنے والے کھوجی صحا فی حضرات آر ایس ایس،ہندو یووا واہنی اور رام سینا جیسی تشدد پسند تنظیموں کو پورے ثبوت کے ساتھ ’’دہشت گردی کی نرسری ‘‘قراردے چکے ہیں۔جبکہ بجرنگ دل کی دہشت گردی کی ساری روداد تو سلامتی کونسل تک پہنچ چکی ہے۔اس کے برخلاف این ڈی اے کے دور حکومت 2002تا2006میں مدارس کا طویل سروے کرانے کے بعد مسلم دشمنی کیلئے معروف اور اقلیتوں کے مشہور مخالف سابق وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی نے میڈیا کے سامنے جانچ کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد برملا کہا تھا کہ ملک کی کسی اسلامی تعلیم گاہ ،یعنی مسلمانوں کے دینی مدارس میں دہشت گردی کی نہیں بلکہ، خالص حب الوطنی اور انسانیت کی خدمت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ میرے خیال سے یوگی آدتیہ ناتھ ، شیوراج سنگھ چوہان اور مودی جی کو اڈوانی جی کا یہ ’’پروچن‘‘ بار بار سننا چاہئے ،تاکہ ان کے دلوں سے دھرم کے نام پر نفرت پھیلا نے والی گندگی پوری طرح صاف ہوجائے۔
یہ بات یادرکھئے کہ تاریخ ہمیشہ فاتح اور طاقتور قوموں کی ہواکرتی ہے۔جبکہ کمزوروں کی تمام قربانیوں جدو جہد اور وطن پرستی کے کارناموں کوہمیشہ جان بوجھ کر مٹادیا جاتا ہے ۔اس کیلئے کمزور قوموں کے ارباب دانش اور سرمایہ داروں کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی قربانیوں اور اثاثوں کو محفوظ کرنے کیلئے ہر قسم کا ایثار پیش کرکے اپنی قوم کی قربانیوں کوفراموش کرانے والی سازشوں کو ناکام بنائیں اورعنداللہ ماجور ہوں۔
9911587378
Sunday, January 17, 2016
اقلیتی تعلیم گاہوں پرکالی نظر
میم ضاد فضلی
گذشتہ چند مہینوں میں ملک کے حالات الگ ہی ڈگر پر چل رہے ہیں، جس کے باعث ہر درد مند دل رکھنے والے ہندو و مسلم کو فکر دامن گیر ہے، اس لیے کہ ان میں سے کوئی بھی وطن پرست اپنے آشیاں کو اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ ہر شہری ملک میں امن و امان کے ساتھ زندگی گزارنے کا آرزومند ہے لیکن کیا کیجیے مختلف النوع مسائل کھڑے کر اور گڑے مْردے اْکھاڑ کر بعض لوگوں نے ملک کی فضا کو آلودہ کر رکھا ہے۔ من جملہ ان مسائل کے ایک نیا ایشو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی کردار معاملہ ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار سے متعلق مرکزی حکومت کے موقف نے یونیورسٹی سے وابستہ دانشوروں کے علاوہ مسلم طبقیکو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعے اپنے نظریے اور ارادے کے اظہار پر ایک طرف سیاسی ، سماجی اور تعلیمی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے، دوسری طرف علیگ برادری نے بھی سخت ردِّعمل کا اظہار کیا ہے۔مودی حکومت کے ذریعے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کی کوشش کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز، مسلم اور غیر مسلم لیڈروں نے بھی قانونی جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کی ایک بینچ نے یہ واضح کیا ہے کہ کسی تعلیمی ادارے کو مذہبی اقلیتی ادارہ قرار دینے کا اختیار صرف مرکزی حکومت کو ہے۔
عدالت عظمٰی کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مرکزی حکومت کی جانب سے یہ واضح اشارہ مل رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دو اہم اداروں، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے جا رہی ہے۔
آئین ہند کے مطابق مذہبی اقلیتی اداروں کے ضوابط اور ان کے انتظام کے سلسلے میں اقلیتوں کو بعض خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔ ان اختیارات کے تحت ایسے اداروں کے فیصلوں میں حکومت کا دخل نہیں ہوتا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ نے 20ویں صدی کے اوائل سے ملک کے تعلیمی شعبے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ادارے اگرچہ مسلمانوں نے قائم کئے تھے لیکن وقت گزرنے کیساتھ یہ ادارے مرکزی یونیورسٹیز میں تبدیل ہو گئیں۔
یہاں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا رہاہے کہ ان یونیورسٹیز کے اربوں روپے کے اخراجات کا بار حکومت کے سر ہے۔البتہ اسی ملک میں ہندومٹھوں اوراکثریتی طبقہ کے سیکڑوں تعلیمی ادارے بھی مکمل طور پر حکومت کے ذریعہ بخشے ہوئے عنایات کی مرہون منت ہوا کرتے ہیں مگراس میں مداخلت نہیں کی جاتی،بلکہ اسے ہر طرح کی آ زادی حاصل ہوتی ہے۔یہاں انصاف کے یہی دوہرے پیمانے ساری دنیاکو ہندوستان کی جمہوریت کے تعلق سے شکوک میں مبتلاء رکھتے ہیں۔اکثریتی طبقہ کے زیراختیار اداروں میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جاتی ،جب کہ مسلمانوں کیلئے ہرطرف مسائل ہی مسائل ہیں۔ظاہر سی بات ہے ان ریشہ دوانیوں میں مرکزی حکومت کہیں نہ کہیں ضرور شامل ہے۔
ہندوستان کے مسلمان بالخصوص شمالی ہندوستان کے مسلمان تعلیم اور معیشت میں دلتوں کی ہی طرح کافی پیچھے ہیں۔ حکومت نے دلتوں قبائل اور پسماندہ ہندوؤں کو اوپر لانے کے لیے تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں تقریبا 50 فیصد کوٹے دے رکھا ہے۔
اس کے بر عکس مسلمانوں کو تعلیمی اور معاشی پسماندگی سے نکالنے کے لیے حکومت نے اس طرح کی کوئی اسکیم یا ترغیبی پروگرام شروع نہیں کیا۔ یہی نہیں ہندوؤں کو ریزرویشن دینے کی پالیسی سے پہلے ہی پسماندگی کا شکار مسلمانوں کو تعلیم اور معیشت میں مزید پیچھے دھکیل دیا گیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ یونیورسٹی ملک کی دو واحد ایسی یونیورسٹیز ہیں جنھیں اقلیتی تعلیمی ادارہ تسلیم کیا گیا تھا اور جہاں مختلف کورسز میں مسلمانوں کو 50 فیصد کوٹے کا نظام رائج ہے۔
اگرچہ ان دونوں اداروں پر مسلمانوں کے نام نہاد اعلیٰ ذات کے متمول طبقے کا غلبہ رہا ہے، لیکن اس کے باوجود ہزاروں غریب اور پسماندہ مسلمان ان دونوں یونیورسٹیز کے کورسز خاص طور سے میڈیکل، انجینئرنگ، قانون، منیجمنٹ اور دوسرے پیشہ ورانہ کورسز سے فیضیاب ہوتے رہے ہیں۔
ملک میں سرکاری اور نجی ملکیت کی تقریبا ساڑھے سات سو یونیورسٹیز واقع ہیں اور ان یونیورسٹیز میں اوسطاً 95 فیصد طلبہ ہندو ہوتے ہیں۔ پورے ہندوستان میں صرف علی گڑھ اور جامعہ ملیّہ یونیورسٹیز ایسی ہیں جہاں مسلم طلبہ کی تعداد 40 فیصد سے زیادہ ہے۔
یہ دونوں یونیورسٹیز ملک کی مذہبی منافرت کی سیاست کا محور رہی ہیں۔ یہ کئی عشروں سے سخت گیر ہندو تنظیموں کے راڈار پر ہیں۔ اب جبکہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے، اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ ان یونیورسٹیز کا اقلیتی کردار ختم کر رہی ہے۔قانونی اعتبار سے بھی یہ ایک جائز فیصلہ ہوگا۔ کیونکہ مذہبی اقلیتی ادارہ چلانے کی ذمہ داری ریاست کی نہیں ہو سکتی، لیکن مبصرین اس فیصلے کو ریاست کی ذمہ داری سے زیادہ حکمراں جماعت کی ہندو نظریاتی سوچ سے منسوب کر رہے ہیں۔
مسلمانوں کو ان دونوں یونیورسٹیز کی سیاست سے باہر آنا ہوگا۔ جمہوریت پسند دانشوروں اور مسلمانوں میں یہ تصور عام ہے کاہندوستان کا ایک طبقہ مسلمانوں کو دوئم درجے کا شہری اور غریب بنائے رکھنے کے لیے انھیں تعلیم سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔
ملک کے 16 کروڑ مسلمانوں کو اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ ان کی تعلیم کا حل بیکار کی جذباتی سیا ست میں نہیں ہے۔ انھیں اپنے سیاسی رہنماؤں سے یہ پو چھنا ہوگا کہ ان کے شہر، قصبے، خطے اور ان کی آبادیوں میں حکومت اچھے اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز کیوں نہیں کھولتی ؟
مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی بقا صرف جدید تعلیم پر منحصر ہے۔ انھیں مدرسوں کی بہت زیادہ ضرورت نہیں ہے ،بلکہ جدید یونیوورسٹیز چاہئیں۔انہیں مراعات کے لیے نہیں تعلیمی برابری کے لیے جد وجہد کرنی ہوگی۔انھیں اس شرمناک حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ تاریخ کی اس منزل پر بھارت کے مسلمان تعلیم کی اسی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں سر سید احمد خان نیسوا سو برس پہلے انھیں چھوڑا تھا۔
Back to Conversion Tool
Friday, December 4, 2015
دہشت گرد مسلمان نہیں ہوتے ......؟
سچ بول دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میم ضاد فضلی
ابھی پیرس کا زخم تازہ ہی تھا کہ اور اس غیر کیلئے مورد الزام لوگوں کے خلاف دنیا بھرمیں بے گناہ مسلم نوجوانوں کی جائز وناجا ئز گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہی اور شک کی سوئی اسرائیل کی جانب گھوم ہی رہی تھی کہ کل امریکہ کے کیلفورنیا میں اسی قتل و قتال کی تا ریخ دہرا دی گئی اور اس معاملے میں بھی کئی قسم کی تشاویش کے گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں۔ کسی طبقہ کا دعویٰ ہے کہ اس واقعہ ذمہ دار امریکہ کا گن کلچر ہے تو کسی کا کہنا ہے کہ یہ انتہا پسند مسلم تنظیموں کی کارستانی ہے۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار پھر کیلیفور نیا کی دہشت گر دانہ کا ر کردگی نے مسلمانوں کو شک کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے اور نہ جانے اس کی آنچ کس کس بے گناہوں تک پہنچے گی یہ کہنا مشکل ہے اور کن کن بے گناہوں کی گر دنوں کو اپنے پنجۂ استبداد میں جکڑے گی اس کی بھی نشاندہی مشکل ہے ۔البتہ یہ بات صد فیصد درست ہے کہ عمواسی شبہات کی وجہ سے اصل گنہ گاروں کی گردنیں آزاد رہا کرتی ہیں اور راست طور پربے گناہوں کو مشق ستم بنا دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ مذ ہب اسلام کسی بھی قسم کی دہشت گردی،ارہاب وتشدد کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔اسلام دینِ فطرت ہے،اسلام حق پسند،حق شناس اور عرفان و آگہی کا پیامبر ہے ،اسی کے لانے والے محمد ﷺابن عبداللہ کو اپنوں نے ہی نہیں،بلکہ غیروں نے بھی محسن انسانیت کے لقب سے سرفراز کیا ہے،اسلام اورپیغمبر ہدایت ؐ نے اپنے ماننے والوں کو اخوت و بھائی چارہ کا درس دیا ہے،جسمانی اعضاء یا کسی بھی ذرائع سے کسی بھی شخص کو تکلیف دینے کو حرام قرار دیا ہے، راستے کی ایذاؤں کے ازالہ کو صدقہ جاریہ قرار دے کر انسان کی مصروف زندگی کو سرا پا خیر اور ہمہ دم عبادت بنا دیا ہے،اسلام زبان پر لگام کسنے کا حکم دیتا ہے،پڑوسیوں کے حقوق بیان کرتا ہے،محتاجوں پر صدقات کا حکم دیتا ہے،بیماروں کی عیادت کا حکم دیتا ہے،لاچاروں کی مدد کا حکم دیتا ہے،ظلم کو حرام کرتا ہے،گالی گلوچ پر پابندی لگاتا ہے،بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کا حکم دیتا ہے،بغیر قصور کسی کا قتل ساری انسانیت کا قتل شمار کرتا ہے،اور اسی طرح مرنے والے کی مدد کرکے بچا لینا ساری انسانیت کو بچا لینا شمار کرتا ہے اور اِن تمام احکام میں مسلم و غیر مسلم کا فرق نہیں کیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوصرف مسلمانوں کیلئے خاص نہیں کیا،بلکہ مذہب اسلام تقاضہ کرتا ہے کہ انسانیت کے ناطے دنیا کے سارے لوگوں سے ان کا رویہ مْخلصانہ اور ہمدردانہ ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسولِ رحمت بنا کر بھیجا اورللِنّاسِ بَشیراً وَّ نَذِیراً کہہ کر یہ ثابت کردیا کہ رسول کی یہ رحمت صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ مِن جْملہ انسانوں کیلئے ہے، بغیر کسی امتیازاورفرق کے۔اسلام حقانیت پسند ہے اسلام کا معنٰی ہی امن و شانتی و چین و سکون ۔اسلام اور دہشت گردی یہ متضاد المعانی ہیں، جیسے آگ اور پانی۔یعنی جہاں اسلام ہے وہاں دہشت گردی نہیں ہوتی اور جہاں دہشت گردی ہے وہاں اسلام نہیں ہوتا۔اگر حقیقت سے پردہ کْشائی کی جائے تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اسلام دْشمنوں نے اللّہ کی رحمتوں کا راستہ مسلمانوں سے روکنا چاہا جس کیلئے انہوں نے مسلمانوں کو شرک و بدعت کی دعوت دی،طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے، اسلام کو بدنام کرنے کی سازشیں کیں کچھ مفاد پرست اور ابن الوقت زرخرید مسلمانوں کے اعمال پیش کرکے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا چاہا اورچند ابن الدینار و الدراھیم اور مفاد پرست مسلمانوں کو ایسے کام میں لگایاکہ وہ بے چارے یا تو دینِ اسلام سے باغی ہوگئے یا عمداً اپنے کارنا موں سے مذہب اسلام اور مسلمانوں کوذلیل ورسوا کرنے کا سامان بن گئے۔المیہ یہ ہے کہ یہمنظم سازش مغرب نے مرتب کی اوراپنے زرخرید گروہ کوساری دنیا میں متعدد شعبدہ بازیوں کے ذریعے اسلام اورمسلمانوں کو بدنام کرنے کی مذموم ڈیوٹی پر لگا دیا۔مگرقسم ہے کعبہ کے رب کی اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور مکمل امن کا متقاضی ہے اور اْسے سمجھنے کیلئے صرف اللّہ کا کلام اور رسولِ رحمت کے اقوال و افعال کافی ہیں۔حالاں کہ میں نام نہاد مسلم دانشوروں کے اس گمراہ کن نظریہ کا حامی نہیں ہوں ،اس لئے کہ مرور زمانہ اور تغیرات و انقلابات کے نتیجے میں نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں ،جس کے بارے میں قرآ ن کریم میں خالق کائنات کاارشاد ہے کہ نو آمد تغیر اور مسائل میں اپنی عقل مت چلاؤ اس لئے کہ مسائل کے استنباط اور استخراج کیلئے قرآ ن و حدیث کے پختہ علم کی ضرورت ہے ،لہذاہل الذکر سے رجوع کیا کرو۔یہ بھی ایک ساز ش ہے کہ مغرب کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں اہل اسلام کو گمراہ کن راہ پر ڈال د یا گیا اور اس طر ح اہل الذکر اور علماء سے ان کا رشتہ ہمیشہ کیلئے منقطع ہوگیا۔کچھ معا ملے میں اس قدر غلو سے کام لیا گیا کہ اپنے بزرگوں،آبا ء و اقربا اوراساتذہ کرام کے انتہائے ادب و احترام کو شرک قرار دیکر عامۃ المسلمین کو بے ادبی اوررذالت کی کھائی میں دھکیل دیا گیا۔آج حالات اگر مسلما نوں کے خلاف ہیں تو اس کیلئے مغربی استعمار ہی نہیں بلکہ ہمارے اندر موجود مخصوص طبقہ بھی ذمہ دار ہے،جس نے مذہب کی تفسیر وتفہیم کی اپنی منمانہ تعبیر کے ذریعے ارہاب وتشدد کی نئی راہیں کھول دیں۔اس کیلئے ہم مولانامودودی اور اسی طرح ان گروہوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے جنہوں نے مسلمانوں کیلئے سیکولرزم کی تشریح میں ٹامک ٹوئیاں کیں اور ٹھوکریں کھا ئیں ۔ اسی سازش کے نتیجہ میں علم وفکرتحقیق واجتہاد کے اس اصول کوتار تار کردیا جوایک مجتہد کو شریعت کے سانچے میں باندھے رکھتا ہے۔آ ج اگرسیریا میں داعش ،عراق میں القاعدہ،لبنان میں حزب اللہ اورمصر میں اخوان المسلمون کی لہو ارزانی دہشت گردی ہے تو اپنے اپنے مفادات کیلئے اسی طرح سیریا اوریمن میں آسمانوں سے بارود برسانے کو بھی ہم دہشت گردی کی تعبیر سے جدا نہیں کرسکتے۔مغرب کے ذریعہ دہشت گردی کی وضع کردہ اصطلاح پر مادر علمی دار العلوم کے رسالہ میں بڑ نپی تلی بات کہی گئی ہے۔
’’دہشت گردی آج کے دَور میں ایک ایسی اصطلاح بن چکی ہے جس سے ہر طبقہ کے انسانوں کے کان آشنا ہیں۔ یہ لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک خوفناک تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ تصور کسی دلفریب وخوش گوار وادی کا نہیں،کسی پارٹی یا عدالت کا نہیں بلکہ انسانی احترام وعظمت کی پامالی کا، انسانیت کے تقدس کو بالائے طاق رکھ کر انسانوں کے لہو سے تربتر دامنوں کا، سڑکوں پر بہتے اور منجمد خونوں کا، بم دھماکوں اور سفاکیت کے اعلیٰ مظہر عراق، افغانستان اور فلسطین میں بے گناہ، معصوم بچوں اور عورتوں کے ساتھ وحشت وبربریت، ظلم وستم اور ناجائز طور پر ان کے حقوق کی پامالی کا ایک وحشت بھرا دردناک تصور انسانی ذہن میں قائم ہوکر ذہن ودماغ کے تاروپود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔دہشت گردی کی اس مسموم فضا میں صرف یہی نہیں بلکہ ظلم وجبر کے ایسے ایسے روح فرسا مناظر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ سینے میں پتھرجیسے دل رکھنے والوں کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ سینوں میں ہمدردی اورانسانیت کی محبت اوراس کے نام پر دھڑکنے والا دل رکھنے والے انسانوں کی سسکیاں احساس کے کانوں سے سنی جاسکتی ہیں۔دہشت گردی کی اصطلاح پر ہوئے واقعات میں جہاں انسانی ذہن خاک و خون میں تڑپتی لاشوں، کشت وخون، ظلم وبربریت اور تباہی و بربادی کے عریاں رقص میں ہلاکت و بربادی کے گھاٹ پر قربان ہوتے انسانوں کی جائداد، اموال اور مکانوں کی بربادی کاتصور قائم کرتے ہیں وہیں انسانی ذہن پر واقعات کی وہ بھیانک تصویر بھی ابھرآتی ہے جو مسلم وغیرمسلم ملکوں سے بہت سے مسلمانوں، خصوصاً لکھے پڑھے اور دین دار نوجوانوں کو گرفتار کرکے، اندرونِ افغانستان وعراق اور ’’گوانتاناموبے‘‘ کے بدنام زمانہ قید خانوں میں ڈال کر ان کے ساتھ جسمانی، جنسی، ذہنی اور فکری طور پر ایسی مجرمانہ حرکتیں کی گئیں اور اذیت رسانی اور توہین و تذلیل کے ایسے ایسے طریقے وضع کیے گئے جن سے حقوقِ انسانی کے نام پر ساری دنیا نے آنسو بہادیے اور جس نے سارے انسانی ضمیر کو ہلاکر رکھ دیا۔چاہے وہ افغانستان، عراق، لبنان اور فلسطین کے معصوموں کے خون سے ہولی کے واقعات ہوں یا اپنے ملک میں بمبئی فسادات اور گودھرا حادثہ کے واقعات ہوں، گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی اور ظلم و تشدد کی ایسی سنگین مثال جس نے اچھے اچھے ظالموں اور سفاکوں کو بھی رلادیا۔ حالیہ واقعات میں تاریخ نے وحشت وبربریت اور جبر وتشدد کا ایسا ننگا ناچ اپنے سینے پر رقم نہیں کیا ہوگا۔ ان سب کے پیچھے ہمیں ایک بڑا ہاتھ، وسائل سے بھرپور جبر و تشدد اور ظلم و ستم کا پیکر کسی بہت بڑے مقصد کے لیے کارفرما نظر آتا ہے۔
یہ ساری باتیں کھول کھول کر بتا رہی ہیں کہ مسلمانوں اہل دانش اہل علم کو جانبداری کی چادر اتار کر انسانیت کی فلاح کیلئے آ گے آ نا چاہئے اور مغرب کی مرتب کردہ اصلاح کو من و عن قبول کرنے وا لے ممالک سعودی عرب اور ایران کی دیانت داری کے ساتھ تنقید ومذ مت کی جانی چاہئے۔
ابھی پیرس کا زخم تازہ ہی تھا کہ اور اس غیر کیلئے مورد الزام لوگوں کے خلاف دنیا بھرمیں بے گناہ مسلم نوجوانوں کی جائز وناجا ئز گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہی اور شک کی سوئی اسرائیل کی جانب گھوم ہی رہی تھی کہ کل امریکہ کے کیلفورنیا میں اسی قتل و قتال کی تا ریخ دہرا دی گئی اور اس معاملے میں بھی کئی قسم کی تشاویش کے گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں۔ کسی طبقہ کا دعویٰ ہے کہ اس واقعہ ذمہ دار امریکہ کا گن کلچر ہے تو کسی کا کہنا ہے کہ یہ انتہا پسند مسلم تنظیموں کی کارستانی ہے۔میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار پھر کیلیفور نیا کی دہشت گر دانہ کا ر کردگی نے مسلمانوں کو شک کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے اور نہ جانے اس کی آنچ کس کس بے گناہوں تک پہنچے گی یہ کہنا مشکل ہے اور کن کن بے گناہوں کی گر دنوں کو اپنے پنجۂ استبداد میں جکڑے گی اس کی بھی نشاندہی مشکل ہے ۔البتہ یہ بات صد فیصد درست ہے کہ عمواسی شبہات کی وجہ سے اصل گنہ گاروں کی گردنیں آزاد رہا کرتی ہیں اور راست طور پربے گناہوں کو مشق ستم بنا دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ مذ ہب اسلام کسی بھی قسم کی دہشت گردی،ارہاب وتشدد کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔اسلام دینِ فطرت ہے،اسلام حق پسند،حق شناس اور عرفان و آگہی کا پیامبر ہے ،اسی کے لانے والے محمد ﷺابن عبداللہ کو اپنوں نے ہی نہیں،بلکہ غیروں نے بھی محسن انسانیت کے لقب سے سرفراز کیا ہے،اسلام اورپیغمبر ہدایت ؐ نے اپنے ماننے والوں کو اخوت و بھائی چارہ کا درس دیا ہے،جسمانی اعضاء یا کسی بھی ذرائع سے کسی بھی شخص کو تکلیف دینے کو حرام قرار دیا ہے، راستے کی ایذاؤں کے ازالہ کو صدقہ جاریہ قرار دے کر انسان کی مصروف زندگی کو سرا پا خیر اور ہمہ دم عبادت بنا دیا ہے،اسلام زبان پر لگام کسنے کا حکم دیتا ہے،پڑوسیوں کے حقوق بیان کرتا ہے،محتاجوں پر صدقات کا حکم دیتا ہے،بیماروں کی عیادت کا حکم دیتا ہے،لاچاروں کی مدد کا حکم دیتا ہے،ظلم کو حرام کرتا ہے،گالی گلوچ پر پابندی لگاتا ہے،بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کا حکم دیتا ہے،بغیر قصور کسی کا قتل ساری انسانیت کا قتل شمار کرتا ہے،اور اسی طرح مرنے والے کی مدد کرکے بچا لینا ساری انسانیت کو بچا لینا شمار کرتا ہے اور اِن تمام احکام میں مسلم و غیر مسلم کا فرق نہیں کیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوصرف مسلمانوں کیلئے خاص نہیں کیا،بلکہ مذہب اسلام تقاضہ کرتا ہے کہ انسانیت کے ناطے دنیا کے سارے لوگوں سے ان کا رویہ مْخلصانہ اور ہمدردانہ ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسولِ رحمت بنا کر بھیجا اورللِنّاسِ بَشیراً وَّ نَذِیراً کہہ کر یہ ثابت کردیا کہ رسول کی یہ رحمت صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ مِن جْملہ انسانوں کیلئے ہے، بغیر کسی امتیازاورفرق کے۔اسلام حقانیت پسند ہے اسلام کا معنٰی ہی امن و شانتی و چین و سکون ۔اسلام اور دہشت گردی یہ متضاد المعانی ہیں، جیسے آگ اور پانی۔یعنی جہاں اسلام ہے وہاں دہشت گردی نہیں ہوتی اور جہاں دہشت گردی ہے وہاں اسلام نہیں ہوتا۔اگر حقیقت سے پردہ کْشائی کی جائے تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اسلام دْشمنوں نے اللّہ کی رحمتوں کا راستہ مسلمانوں سے روکنا چاہا جس کیلئے انہوں نے مسلمانوں کو شرک و بدعت کی دعوت دی،طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے، اسلام کو بدنام کرنے کی سازشیں کیں کچھ مفاد پرست اور ابن الوقت زرخرید مسلمانوں کے اعمال پیش کرکے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا چاہا اورچند ابن الدینار و الدراھیم اور مفاد پرست مسلمانوں کو ایسے کام میں لگایاکہ وہ بے چارے یا تو دینِ اسلام سے باغی ہوگئے یا عمداً اپنے کارنا موں سے مذہب اسلام اور مسلمانوں کوذلیل ورسوا کرنے کا سامان بن گئے۔المیہ یہ ہے کہ یہمنظم سازش مغرب نے مرتب کی اوراپنے زرخرید گروہ کوساری دنیا میں متعدد شعبدہ بازیوں کے ذریعے اسلام اورمسلمانوں کو بدنام کرنے کی مذموم ڈیوٹی پر لگا دیا۔مگرقسم ہے کعبہ کے رب کی اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور مکمل امن کا متقاضی ہے اور اْسے سمجھنے کیلئے صرف اللّہ کا کلام اور رسولِ رحمت کے اقوال و افعال کافی ہیں۔حالاں کہ میں نام نہاد مسلم دانشوروں کے اس گمراہ کن نظریہ کا حامی نہیں ہوں ،اس لئے کہ مرور زمانہ اور تغیرات و انقلابات کے نتیجے میں نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں ،جس کے بارے میں قرآ ن کریم میں خالق کائنات کاارشاد ہے کہ نو آمد تغیر اور مسائل میں اپنی عقل مت چلاؤ اس لئے کہ مسائل کے استنباط اور استخراج کیلئے قرآ ن و حدیث کے پختہ علم کی ضرورت ہے ،لہذاہل الذکر سے رجوع کیا کرو۔یہ بھی ایک ساز ش ہے کہ مغرب کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں اہل اسلام کو گمراہ کن راہ پر ڈال د یا گیا اور اس طر ح اہل الذکر اور علماء سے ان کا رشتہ ہمیشہ کیلئے منقطع ہوگیا۔کچھ معا ملے میں اس قدر غلو سے کام لیا گیا کہ اپنے بزرگوں،آبا ء و اقربا اوراساتذہ کرام کے انتہائے ادب و احترام کو شرک قرار دیکر عامۃ المسلمین کو بے ادبی اوررذالت کی کھائی میں دھکیل دیا گیا۔آج حالات اگر مسلما نوں کے خلاف ہیں تو اس کیلئے مغربی استعمار ہی نہیں بلکہ ہمارے اندر موجود مخصوص طبقہ بھی ذمہ دار ہے،جس نے مذہب کی تفسیر وتفہیم کی اپنی منمانہ تعبیر کے ذریعے ارہاب وتشدد کی نئی راہیں کھول دیں۔اس کیلئے ہم مولانامودودی اور اسی طرح ان گروہوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے جنہوں نے مسلمانوں کیلئے سیکولرزم کی تشریح میں ٹامک ٹوئیاں کیں اور ٹھوکریں کھا ئیں ۔ اسی سازش کے نتیجہ میں علم وفکرتحقیق واجتہاد کے اس اصول کوتار تار کردیا جوایک مجتہد کو شریعت کے سانچے میں باندھے رکھتا ہے۔آ ج اگرسیریا میں داعش ،عراق میں القاعدہ،لبنان میں حزب اللہ اورمصر میں اخوان المسلمون کی لہو ارزانی دہشت گردی ہے تو اپنے اپنے مفادات کیلئے اسی طرح سیریا اوریمن میں آسمانوں سے بارود برسانے کو بھی ہم دہشت گردی کی تعبیر سے جدا نہیں کرسکتے۔مغرب کے ذریعہ دہشت گردی کی وضع کردہ اصطلاح پر مادر علمی دار العلوم کے رسالہ میں بڑ نپی تلی بات کہی گئی ہے۔
’’دہشت گردی آج کے دَور میں ایک ایسی اصطلاح بن چکی ہے جس سے ہر طبقہ کے انسانوں کے کان آشنا ہیں۔ یہ لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک خوفناک تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ تصور کسی دلفریب وخوش گوار وادی کا نہیں،کسی پارٹی یا عدالت کا نہیں بلکہ انسانی احترام وعظمت کی پامالی کا، انسانیت کے تقدس کو بالائے طاق رکھ کر انسانوں کے لہو سے تربتر دامنوں کا، سڑکوں پر بہتے اور منجمد خونوں کا، بم دھماکوں اور سفاکیت کے اعلیٰ مظہر عراق، افغانستان اور فلسطین میں بے گناہ، معصوم بچوں اور عورتوں کے ساتھ وحشت وبربریت، ظلم وستم اور ناجائز طور پر ان کے حقوق کی پامالی کا ایک وحشت بھرا دردناک تصور انسانی ذہن میں قائم ہوکر ذہن ودماغ کے تاروپود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔دہشت گردی کی اس مسموم فضا میں صرف یہی نہیں بلکہ ظلم وجبر کے ایسے ایسے روح فرسا مناظر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ سینے میں پتھرجیسے دل رکھنے والوں کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ سینوں میں ہمدردی اورانسانیت کی محبت اوراس کے نام پر دھڑکنے والا دل رکھنے والے انسانوں کی سسکیاں احساس کے کانوں سے سنی جاسکتی ہیں۔دہشت گردی کی اصطلاح پر ہوئے واقعات میں جہاں انسانی ذہن خاک و خون میں تڑپتی لاشوں، کشت وخون، ظلم وبربریت اور تباہی و بربادی کے عریاں رقص میں ہلاکت و بربادی کے گھاٹ پر قربان ہوتے انسانوں کی جائداد، اموال اور مکانوں کی بربادی کاتصور قائم کرتے ہیں وہیں انسانی ذہن پر واقعات کی وہ بھیانک تصویر بھی ابھرآتی ہے جو مسلم وغیرمسلم ملکوں سے بہت سے مسلمانوں، خصوصاً لکھے پڑھے اور دین دار نوجوانوں کو گرفتار کرکے، اندرونِ افغانستان وعراق اور ’’گوانتاناموبے‘‘ کے بدنام زمانہ قید خانوں میں ڈال کر ان کے ساتھ جسمانی، جنسی، ذہنی اور فکری طور پر ایسی مجرمانہ حرکتیں کی گئیں اور اذیت رسانی اور توہین و تذلیل کے ایسے ایسے طریقے وضع کیے گئے جن سے حقوقِ انسانی کے نام پر ساری دنیا نے آنسو بہادیے اور جس نے سارے انسانی ضمیر کو ہلاکر رکھ دیا۔چاہے وہ افغانستان، عراق، لبنان اور فلسطین کے معصوموں کے خون سے ہولی کے واقعات ہوں یا اپنے ملک میں بمبئی فسادات اور گودھرا حادثہ کے واقعات ہوں، گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی اور ظلم و تشدد کی ایسی سنگین مثال جس نے اچھے اچھے ظالموں اور سفاکوں کو بھی رلادیا۔ حالیہ واقعات میں تاریخ نے وحشت وبربریت اور جبر وتشدد کا ایسا ننگا ناچ اپنے سینے پر رقم نہیں کیا ہوگا۔ ان سب کے پیچھے ہمیں ایک بڑا ہاتھ، وسائل سے بھرپور جبر و تشدد اور ظلم و ستم کا پیکر کسی بہت بڑے مقصد کے لیے کارفرما نظر آتا ہے۔
یہ ساری باتیں کھول کھول کر بتا رہی ہیں کہ مسلمانوں اہل دانش اہل علم کو جانبداری کی چادر اتار کر انسانیت کی فلاح کیلئے آ گے آ نا چاہئے اور مغرب کی مرتب کردہ اصلاح کو من و عن قبول کرنے وا لے ممالک سعودی عرب اور ایران کی دیانت داری کے ساتھ تنقید ومذ مت کی جانی چاہئے۔
Tuesday, November 17, 2015
Friday, November 6, 2015
Wednesday, October 14, 2015
جنگل راج کہاں ہے دہلی میں یا بہار میں
جنگل راج کہاں ہے دہلی میں یا بہار میں!
میم ضاد فضلی
سرزمین ہند تیز تر سیاست اور رنگارنگ انتخابی مہم کے لئے مقبول ہے۔ خاص کر بہار میں جب بھی انتخابات کا مرحلہ آتا ہے تو یہاں سیاسی جنگ شدت اختیار کرجاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی رنگارنگ انتخابی مہم بھی زور پکڑتی ہے۔ جب سیاست داں ریاست بھر میں انتخابی مہم چلاتے ہیں تو ان کے درمیان ایک دوسرے کی پول کھولنے کی مہم بھی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ چیف منسٹر بہار نتیش کمار کو عظیم سیکولر اتحاد کا مکھوٹا قرار دیتے ہوئے بی جے پی صدر امیت شاہ نے کہا ہے کہ اگر نتیش کمار کو دوبارہ اقتدار دیا گیا تو بہار میں ’’جنگل راج 2‘‘ شروع ہوگا۔یہ الگ بات ہے کہ کل ہی اپنے ٹیوٹر اکا ؤ نٹ پر نتیش کمار نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امیت شاہ کی توجہ اس جانب مبذ ول کر ا تے ہو ئے کہا ہے جنگل راج کی کوئی مثا ل بہار میں موجود ہوتو ثبوت کے ساتھ بتائیے !ور نہ اخلا ق کے قاتلوں کی پشت پناہی کرنے والے لوگ جو دہلی میں ہندوستان کی قیادت کررہے ہیں ان کی کار کردگی جنگل راج جیسی ہے یا نہیں اس کی تفصیل دنیا کے سا منے ضرور آ نی چا ہئے۔
بہار کی ترقی کے حوالے سے لڑے جانے والے یہ انتخابات یوپی میں دادری قتل واقعہ کے بعد فرقہ وارانہ نوعیت کی مقابلہ آرائی میں تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔عام انتخابات میں 2014 میں حاصل ہونے والی ناقابل تسخیر کا میا بی کے و ز یر اعظم نریند ر مودی اور ان کی ٹیم نے شا ید یہ یقین کرلیا تھا کہ اب ہندوستا ن میں فرقہ پرستی کا سکہ رائج ہوگیاہے اور اب ملک کے رائے دہندگان کے سامنے ووٹ کیلئے اقتصادی سماجی یا مراعاتی ایشوزلے کر جانے کی ضرورت باقی نہیں رہ جائے گی۔مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑتاہے کہ ہمارے بھگوابریگیڈ نے معروف ہندی کوی کبیرداس کی یہ’’ پنکتی ‘‘ یاد رکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ ’’بھوکے بھجن نہ ہوئے‘‘۔بی جے پی اس مینڈ یٹ کو سمجھنے میں بالکل نا کام رہی ،پا ر ٹی اعلیٰ کما ن کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی کہ ملک کے رائے دہندگان مودی کے ہندوتوا وا دی چہرے کو دیکھ کر لٹو ہو گئے تھے ،حالا ں کہ عوا نے مودی جی کے ان وعدو ں پر یقین کر لیاتھا جس میں وہ عام لوگوں سے کہا کر تے تھے کہ اقتد ا ر ہا تھ میں آ تے ہی 15دن کے اندر مہنگائی سے سبھی کو نجا ت دلا دیں گے اور سوئز بنکو ں میں جمع ٹیکس چوروں کے لاکھوں کروڑوں روپے ملک واپس لا کر ہر غریب کے اکاؤ نٹ میں 15لاکھ روپے جمع کرا د یں گے ،اس سے ملک میں دولت کی ایسی ریل پیل ہوجا ئے گی کہ لوگ پچھلے سارے دکھ بھول جائیں گے ۔مگرانتخابات کے محض چند ماہ کے اندر ہی عوام یہ محسوس کر نے لگے کہ انہیں بھگوا طاقتوں نے ٹھگ لیا ہے۔بعد ازاں تقریباً چار ماہ بعد ملک کی 10 ریاستوں میں 33 اسمبلی سیٹوں اور تین لوک سبھا سیٹوں کیلئے ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج سے نکلے اشارہ بی جے پی کے لئے اچھے نہیں رہ سکے ۔راجستھان کی چار اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کا نتیجہ تو آنکھیں کھولنے والا تھا، قریب سو دن پہلے وہاں کے عوام نے تین چوتھائی اکثریت کے ساتھ بی جے پی کو ریاست کی طاقت سونپی تھی، لیکن ضمنی انتخابات کے نتائج میں چار میں سے تین نشستیں کانگریس کے کھاتے میں چلی گئیں ۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ آخر چند ماہ میں ہی ایسا کیا ہوگیا کہ لوگوں کا بی جے پی سے بھروسہ ٹو ٹنے لگا!
پھر دہلی کے اسمبلی نتائج نے بھی بی جے پی کو عو ام کا درد سمجھنے کا سبق دیا ۔مگر ان سب کے با و جو د مودی مہم کے مداری صرف وا ہ وا ہی لو ٹنے میں مگن رہے اوردوسری جانب پا ر ٹی کی الٹی گنتی بھی شروع ہو گئی ۔اب بی جے پی نے بہار کیلئے ساری طاقت لگادی ہے ۔شاید یہ آ زاد ہندو ستا ن کی تا ریخ کا پہلا اسمبلی انتخاب ہے ،جس میں وزیر اعظم کے باوقار عہدہ پر فائز شخص ریلیوں کی لائن لگائے ہو ا ہے۔ بہار میں سال 2005ء کے بعد سے سخت ترین انتخابی مقابلے ہورہے ہیں۔ بہار کی 243 رکنی اسمبلی کیلئے پہلے مرحلے کا انتخاب گزشتہ 12اکتو بر 2015 کو اختتام پذ یر ہوا ہے،اگرچہ نتائج سے قبل کچھ بھی کہنا مشکل ہے کہ عوامی مینڈیٹ کس کے حق میں گیا ہے ،مگرمہنگائی سے بے حال عوام کو ’’بھوکے پیٹ بھجن‘‘ کرانے کی روش بتارہی ہے کہ نتائج کا فی بھیا نک ہوں گے۔سیکولر اتحاد بنانے والی پارٹیوں حکمراں جنتا دل (یو)، آر جے ڈی اور کانگریس کے قائدین کو مخالف پارٹی بی جے پی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ کانٹے کی ٹکر ہے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی کے لئے بہار انتخابات کڑی آزمائش کی گھڑی ہے ۔ سیکولر اتحاد کے قائدین جیسے آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو نے فرقہ پرستوں کے خلاف زبردست محاذ شروع کیا ہے۔ اگر دادری میں ایک بے قصور مسلم شخص کے قتل کا احساس رکھنے والے سیکولر رائے دہندوں نے نتیش کمار کے اتحاد کو ووٹ دیا تو یہ فیصلہ مرکز کی مودی حکومت کے لئے زبردست طمانچہ ہوگا۔ بہار کے سیکولر اتحاد کو مضبوط بنانے کا سہرا چیف منسٹر اور جے ڈی یو کے سینئر رہنما نتیش کمار کے سَر جائے گا۔ بہار میں نتیش کمار کی مقبولیت اور مرکز میں نریندر مودی کی ہچکولے کھاتی حکمرانی کے درمیان عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا انہیں اپنی ریاست کو فرقہ پرستوں کے حوالے کرنا ہے یا ترقی کی سمت گامزن کرنا ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران بہار کے جن رائے دہندوں نے نریندر مودی کو ووٹ دیا تھا،وہ اب اسمبلی انتخابات میں چیف منسٹر نتیش کمار کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔ بہار میں ترقی کی لہر کو نتیش کمار ماڈل سے مقبولیت مل رہی ہے۔ بی جے پی نے اپنے چیف منسٹر امیدوار کی حیثیت سے کسی لیڈر کو پیش نہیں کیا ہے تاہم بی جے پی امیدواروں میں سشیل کمار مودی اصل دعویدار ہیں۔مگر کل ہی بی جے پی کے ترجمان شہنواز حسین نے یہ کہہ کر کھلبلی مچادی ہے کہ بی جے پی کو اکثریت حا صل ہوتی ہے تو وز یر اعلیٰ سابق وزیر پریم کمار ہوں گے،اس بیان کے بعد سشیل کمار مودی کتنا ثابت قدم رہ سکیں گے یہ آ نے والا وقت ہی بتا ئے گا ۔مگریہ سچ ہے کہ اس سے بہار کے مودی کے حوصلے جواب دے رہے ہوں گے اورشاید آئندہ کچھ کہنے کیلئے ان کے پا س توانا ئی با قی نہ رہے؟ بی جے پی کی عوامی مقبولیت کے برعکس نتیش کمار کی مقبولیت دوگنی ہے۔ بہار میں بی جے پی کو ماضی کے بعض اہم قائدین کی مقبولیت کا سہارا لینا پڑے گا۔اسی دوران مودی جی نے بہار کے ایک عظیم سیاسی رہنما کواچک لینے میں کامیابی حاصل کی ہے، ایمرجنسی کے خلاف عوام کی آواز بن کر سامنے آ نے وا لے سیاسی رہنما جے پرکاش نارائن کے نام کو بی جے پی نے آخری اسلحہ کے طور پر اٹھالیا ہے۔مگربد قسمتی یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی اور ان کے بھشماسر امیت شاہ کی ایک بھی ریلی میں آنجہا نی جے پر کا ش نا را ئن کے کنبہ کا کوئی بھی فرد کسی کو بھی نظر نہیں آ رہا ہے۔ بی جے پی نے جے پرکاش نارائن کو اپنا لیڈر کہا ہے اور 11 اکتوبر کو جے پی کی 113 ویں یوم پیدائش کو بڑے پیمانے پرپرشکوہ جشن کی شکل میں منا یا ۔بی جے پی جو ایمرجنسی دور کے بعد جن سنگھ کی کوکھ سے جنم لینے والی پارٹی ہے،جے پرکاش نارائن کی تحریک میں شامل دیگر اہم لیڈروں کے ناموں کا بھی سہارا لینے کی کوشش کررہی ،مگرٹھگی ہوئی ہندوستانی قوم کسی بھی حال میں بی جے پی پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے ۔
فرقہ پرست نظریہ کو فروغ دینے والی پارٹی اگر جمہوریت بچاؤ مہم کو اپنا ہتھیار بنا رہی ہے تو یہ انتخابات کے نتائج کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ اس کو کہاں پر کس حد تک نقصان پہنچا ہے۔ بہار میں یہ انتخابات ہندوستان کے سیاسی مستقبل کا رْخ موڑ سکتے ہیں۔ اگر بی جے پی کو 243 رکنی ایوان میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی ہو ئی تو وہ اپنی حلیف پارٹیوں کی مدد سے حکومت سازی پر غور کرسکتی ہے۔ مگر اس کیلئے چیف منسٹر کے عہدہ کا سوال ہی پیدا ہوگا اور یہ بی جے پی مرکزی قیادت کے لئے دردِ سَر بن جائے گا کہ بہار میں چیف منسٹر کا عہدہ کس کے حوالے کیا جائے۔ حکمران پارٹی کے سیکولر اتحاد کو نقصان پہنچانے کیلئے ایک مسلم پارٹی کا کردار اگر سنگھ پریوار کے حق میں ہوگا تو پھر موقع پرستی اور ہندوتوا طاقتوں سے خفیہ ہاتھ ملانے کی بدترین مثال بھی قائم ہوگی۔ بہرحال بہار کے رائے دہندگا ن صرف صاف ستھری قیادت کو ترجیح دینے کا تہیہ کرلیں تو پھر انہیں آنے والے دنوں میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کسی بھی پارٹی کے پاس صاف ستھرے کردار والے قائدین کی تعداد نہیں کے برابر ہے۔
09911587378
Wednesday, September 16, 2015
بہارکی ترقیکا کریڈٹ نتیش کو، مگر لالو کا ساتھ بڑاچیلنج
بہارکی ترقی کا کریڈٹ نتیش کو، مگر لالو کا ساتھ بڑاچیلنج
میم ضادفضلی
نئی دہلی :بہار اسمبلی الیکشن سے پہلے ووٹر کی نبض ٹٹوٹٹولنے کیلئے جنتا دل (یونائیٹڈ) کی جانب سے کرائے گئے داخلی سروے کے نتائج پارٹی کو پریشان کر سکتے ہیں۔ تاہم ایک دیگرسروے جواے بی پی نیلسن کے نام سے منظرعام پرآیاہے ،اس میں بتایاگیاہے کہ بی جے پی اوردیگرفسطائی قوتوں کی فتنہ انگیزیوں کے باوجودنتیش کمارکاجادوبرقرارہے۔
ادرھرجے ڈی یو کے داخلی سروے میں شامل زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ بہار میں تبدیلی اور ترقی دکھائی دے رہی ہے اس سے چشم پوشی کرنے والادیانت اورسچائی کادشمن ہی ہوسکتاہے اور ریاست کی اس ترقی وہمہ جہت تبدیلی کاکریڈٹنتیش کمار کو دیاگیاہے،تاہم چونکہ یہ سروے برسرقتداروزیراعلیٰ کی جماعت کے لوگوں نے ہی کیاہے،اس لئے اپنے سینئرلیڈرکی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے کے اندیشہ سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ بہارنے موجودہ وزیراعلیٰ نتیش کمارکی قیادت میں قابل ذکرترقی کی ہے،مجرمانہ واقعات کی وارداتوں میں بھی کمی آئی ہے اوربڑی حدتک بدعنوانی کیخلاف اقدامات کے معاملے میں بہارکی نتیش حکومت نے پورے ملک کوآئینہ دکھایاہے۔اس کااعتراف بدعنوانی کیخلاف ملک گیرتحریک کارگاندھی نوازبزرگ اناہزارے بھی کیاہے۔البتہ اس سے بھی انکارممکن نہیں ہے کہ ریاست کے ترقیاتی منصوبوں کوعملی جامہ پہنانے کیلئے مرکزکی سابق یوپی اے حکومت نے فنڈدینے میں کسی موقع پرعدم دلچسپی کامظاہرہ کیاہوایسی مثالیں کافی کم ہیں۔مگرمرکزمیں این ڈی اے کی واپسی اورنریندرمودی کے وزیراعظم بننے کے بعدمتعددترقیاتی منصوبے تشن�ۂ تکمیل رہ گئے اوروہ صرف اس وجہ سے کہ سیاسی تنازع کی وجہ سے مودی حکومت نے فنڈمہیاکرانے میں بہارکے ساتھ معاندانہ رویہ اختیارکیاہے۔وزیراعلیٰ نتیش کمارنے مظفرپورریلی سے قبل پٹنہ میں نریندرمودی کے اسٹیج پرہی مرکزی اسکیموں کی تکمیل میں سیاسی دشمنی نکالنے اوربہارکے ساتھ ناانصافی کی شکایت بھی کی تھی۔اسی اجلاس میں نریندرمودی نے اپنی تقریرمیں اس بات کااعتراف کیاتھاکہ بعض اوقات سیاسی مخاصمت کے نتیجے میں ترقی اورعوامی مفادات کے اہم منصوبے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔جمہوری نظام حکومت میںیہ ایک تلخ سچائی ہے،جس سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔وزیراعظم کانتیش کمارکے سامنے یہ اعتراف بھی اسی جانب اشارہ کررہاہے کہ ریاست کی ترقی میں نتیش کمارکی قربانی کوسبھی لوگ قبول کرتے ہیں۔ حالاں کہ اس سروے میںیہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ نتیش کمارکے لالوسے ہاتھ ملانے پرنقصان کااندیشہ ہے۔حالانکہ بہارکی سیاست کاگہرامطالعہ رکھنے والے ماہرین کاخیال ہے کہ بہارمیں چونکہ ذات کافیکٹرہمیشہ نمایاں رہاہے اوریہی وجہ ہے کہ عام انتخابات کے بعدجب بہاراسمبلی کیلئے لگ بھگ ایک درجن سیٹوں پرانتخابات کرائے گئے توجیتنے کے لئے بی جے پی کے بڑے لیڈروں کوخون تھوکناپڑاتھااورمسلم یادوکے علاوہ نتیش کمارکے مہادلت حامیوں نے فارورڈبلاک کوکھلاپیغام دیدیاتھاکہ بہارمیں ذات فیکٹرکی جڑیں کافی گہری ہیں اوراس کاراست فائدہ اس جماعت یااتحادکومل سکتاہے جدھراقلیت اوریادووں کاجھکاؤہوگا، لیکن جے ڈی یوکااندرونی سروے بتاتاہے کہ پارٹی کی اکثریت دوبارہ نتیش کمارکو سی ایم کے طور پر منتخب کرنے کیلئے تیار نہیں ہے،اگریہ صحیح ہے تویہی کہاجاسکتاہے کہ یہ موقف پارٹی میں موجودان عناصرکاہوسکتاہے جن دل میں ابھی فرقہ پرستی کی دہک رہی ہے۔۔ ذرائع کے مطابق سروے کے اس نتیجے سے پارٹی اعلی کمان پریشان ہیں۔حالاں کہ اس موضوع سینئرلیڈراورجے ڈی یوایم ایل سی وجے کمارمشرانے نمائندہ سے گفتگوکے دوران بتایاکہ یہ ساری باتیں صرف بھرم پھیلانے والی ہیں اوراس کافائدہ براہ راست فرقہ پرست عناصرکوہوگالہذااس قسم کی سروے رپورٹ پربہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے،جالہ سے جے ڈی یوکے موجودہ رکن اسمبلی اورپارٹی کے ودھان سبھاامیدوارجیسے لیڈران کی عظیم اتحادمیں کافی تعدادہے جن کابیک گراؤنڈسیکولررہاہے اورمرکزی حکومت میں ان کے دادااوروجے کمارمشراکے والدآنجہانی للت نارائن مشراکی سیکولرفکرسے ساری دنیاواقف ہے۔لہذاسیکولرنوازوں کاتال میل بی جے پی کیلئے ناقابل برداشت بنتاجارہاہے اور سروے رپورٹ انہیں لوگوں کی آراء پرمحیط لگتی ہے جو’‘’مکھ میں رام رام بغل میں چھڑا‘‘والی کہاوت کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ سروے میں شامل یوتھ اور خواتین میں سے زیادہ تر نے نتیش کو پھر سے وزیر اعلی نہ بنانے پر زور دیا ہے۔یہ یوتھ کس فکرکے حامل ہوسکتے ہیں اس کوسمجھنے کیلئے ابھی دوروزقبل دہلی یونیورسٹی کی طلبایونین کے انتخابات میں بھگوابریگیڈکی کامیابی جائزہ لیاجاسکتاہے،جس سے یہ پتہ چلتاہے کہ اعلیٰ تعلیم کے باوجوداشرافیہ کانوجوان طبقہ فرقہ پرستی کے زہرسے کس قدرسیاہ بناہواہے۔سروے میں کہاگیاہے کہ 80 فیصد لوگوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں ان کی ترقی اور تبدیلی نے نتیش کمارکیلئے ان کے دلوں میں کافی جگہ بنائی ہے۔ تقریبا 70 فیصد لوگونے کہا کہ ہمیں ترقی اور تبدیلی سے فائدہ ہوا ہے۔علاوہ ازیں قریب 70 فیصد نے تبدیلی کا کریڈٹ نتیش کمار کو دیاہے۔
Monday, June 22, 2015
बिहार चुनाव से पहले भाजपा में घमासान, अब सीपी ठाकुर ने ठोकी सीएम पद की दावेदारी
बिहार चुनाव से पहले भाजपा में घमासान, अब सीपी ठाकुर ने ठोकी सीएम पद की दावेदारी
सीएम प्रत्याशी के नाम पर भाजपा में मतभेद: उपेंद्र कुशवाहा
मुख्यमंत्री के चेहरे को लेकर एनडीए में जारी घमासान को आगे बढ़ाते हुए रालोसपा प्रमुख उपेंद्र कुशवाहा ने आज दिल्ली पहुंचकर कहा कि भाजपा में सीएम पद को लेकर मतभेद है, जबकि रालोसपा एकजुट है. उन्होंने कहा कि भाजपा नेता अलग-अलग दावे कर रहे हैं, इसी स्थिति को देखते हुए रालोसपा ने उन्हें सीए पद का उम्मीदवार चुन कर एक रास्ता दिखाया है.
सीएम प्रत्याशी पर लोजपा व हम की राय
भाजपा के अन्य सहयोगियों दल लोजपा के प्रमुख व केंद्रीय मंत्नी रामविलास पासवान और पूर्व मुख्यमंत्री जीतन राम मांझी के हिन्दुस्तानी अवाम मोर्चा ने पहले ही घोषणा की है कि वह गठबंधन की ओर से मुख्यमंत्री के उम्मीदवार के रु प में भाजपा के किसी भी नाम का समर्थन करेंगे. इन्होंने कहा है कि भाजपा को मुख्यमंत्री पद का उम्मीदवार चुनने का अधिकार है क्योंकि वह गठबंधन में सबसे बड़ी पार्टी है.
सीएम पद की दावेदारी पर सुशील मोदी के बोल
भाजपा के वरिष्ट नेता व पूर्व उपमुख्यमंत्री सुशील मोदी ने खुद को सीएम उम्मीदवार बताए जाने को लेकर कटु आलोचना की है. उन्होंने कहा कि भाजपा बिहार में विधानसभा चुनाव प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी के नेतृत्व और उनके ही नाम पर लड़ेगी. हालांकि, उन्होंने यह भी कहा कि पार्टी की ओर से सीएम उम्मीदवार का नाम चुनाव से पहले ही किया जाना चाहिए.
किचकिच की शुरुआत
भाजपा में सीएम पद की दावेदारी की शुरुआत तब हुई जब बीते दिनों बिहार चुनाव प्रभारी अनंत कुमार ने कहा, भाजपा बिहार में भी प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी के चेहरे के भरोसे चुनाव लड़ेगी. लेकिन उसी दिन शाम ढलते-ढलते सुशील मोदी ने कुमार के बयान का खंडन कर दिया था. सुशील मोदी ने कहा था कि बिहार में मुख्यमंत्री भाजपा से ही होगा, लेकिन सीएम कौन होगा या चुनाव में किसका चेहरा सामने होगा इस पर कोई आधिकारिक मुहर नहीं लगी है.
पटना: बिहार विधानसभा चुनाव से पहले एनडीए के सीएम प्रत्याशी के नाम की घोषणा को लेकर लगातार विपक्षी दलों के हमलों की मार ङोल रही भाजपा की मुश्किलें कम नहीं हो रही है. एनडीए के घटक दल रालोसपा ने जहां केंद्रीय मंत्री उपेंद्र कुशवाहा को सीएम पद का प्रत्याशी बनाएं जाने की मांग पहले की कर चुकी है. वहीं, राज्यसभा सांसद सीपी ठाकुर ने भी सोमवार को कहा है कि अगर पार्टी चाहे वह मुख्यमंत्री पद की रेस में है.
उल्लेखनीय है कि एनडीए के सीएम प्रत्याशी के नाम की घोषणा किए जाने की मांग करते हुए राजद-जदयू लगातार भाजपा पर निशाना साधते रहे है. वहीं, एनडीए में शामिल मुख्य सहयोगी दल रालोसपा ने कल पार्टी प्रमुख व केंद्रीय मंत्री उपेंद्र कुशवाहा को सीएम प्रत्याशी बनाने की मांग कर एनडीए की मुश्किलें बढ़ा दी है. अभी यह मामला शांत भी नहीं हुआ कि भाजपा के वरिष्ठ नेता व राज्यसभा सांसद सीपी ठाकुर ने इस मामले में बड़ा बयान देते हुए भाजपा की परेशानियों को और बढ़ा दिया है. बिहार में भाजपा की चुनावी रणनीति पर बात करते हुए सीपी ठाकुर ने कहा, अगर पार्टी चाहे तो मैं अपने बिहार के मुख्यमंत्री पद की जिम्मेदारी उठाने के लिए तैयार हूं और मैं सीएम पद की रेस में हूं.सीएम प्रत्याशी के नाम पर भाजपा में मतभेद: उपेंद्र कुशवाहा
मुख्यमंत्री के चेहरे को लेकर एनडीए में जारी घमासान को आगे बढ़ाते हुए रालोसपा प्रमुख उपेंद्र कुशवाहा ने आज दिल्ली पहुंचकर कहा कि भाजपा में सीएम पद को लेकर मतभेद है, जबकि रालोसपा एकजुट है. उन्होंने कहा कि भाजपा नेता अलग-अलग दावे कर रहे हैं, इसी स्थिति को देखते हुए रालोसपा ने उन्हें सीए पद का उम्मीदवार चुन कर एक रास्ता दिखाया है.
सीएम प्रत्याशी पर लोजपा व हम की राय
भाजपा के अन्य सहयोगियों दल लोजपा के प्रमुख व केंद्रीय मंत्नी रामविलास पासवान और पूर्व मुख्यमंत्री जीतन राम मांझी के हिन्दुस्तानी अवाम मोर्चा ने पहले ही घोषणा की है कि वह गठबंधन की ओर से मुख्यमंत्री के उम्मीदवार के रु प में भाजपा के किसी भी नाम का समर्थन करेंगे. इन्होंने कहा है कि भाजपा को मुख्यमंत्री पद का उम्मीदवार चुनने का अधिकार है क्योंकि वह गठबंधन में सबसे बड़ी पार्टी है.
सीएम पद की दावेदारी पर सुशील मोदी के बोल
भाजपा के वरिष्ट नेता व पूर्व उपमुख्यमंत्री सुशील मोदी ने खुद को सीएम उम्मीदवार बताए जाने को लेकर कटु आलोचना की है. उन्होंने कहा कि भाजपा बिहार में विधानसभा चुनाव प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी के नेतृत्व और उनके ही नाम पर लड़ेगी. हालांकि, उन्होंने यह भी कहा कि पार्टी की ओर से सीएम उम्मीदवार का नाम चुनाव से पहले ही किया जाना चाहिए.
किचकिच की शुरुआत
भाजपा में सीएम पद की दावेदारी की शुरुआत तब हुई जब बीते दिनों बिहार चुनाव प्रभारी अनंत कुमार ने कहा, भाजपा बिहार में भी प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी के चेहरे के भरोसे चुनाव लड़ेगी. लेकिन उसी दिन शाम ढलते-ढलते सुशील मोदी ने कुमार के बयान का खंडन कर दिया था. सुशील मोदी ने कहा था कि बिहार में मुख्यमंत्री भाजपा से ही होगा, लेकिन सीएम कौन होगा या चुनाव में किसका चेहरा सामने होगा इस पर कोई आधिकारिक मुहर नहीं लगी है.
Tuesday, November 11, 2014
ऐसी मानसिकता से ही प्रलय आता है उद्धव जी
ओवैसी मुस्लिमों के मन में भर रहे जहरः शिवसेना
मीम ज़ाद फ़ज़ली
लगता है कि हमारे बहुधर्म प्रेम वाले देश में विचारधारा के साथ कुछ तत्व समाज की मानसिकता को संक्रमित करने में अमेरिका से शिक्षा ले रहे हैं। क्या इसी सोच के साथ देश की एकता और अखंडता को बचाये रखा जासकता है। इस समय शिव सेना प्रमुख उद्धव ठाकरे कुछ ऐसे ही कारनामे अंजाम दे रहे हैं। अल्पसंख्यकों और दूसरे प्रान्त के लोगों के बारे में उन की सोच से देश ही नहीं सारा संसार भली भांति परिचित है। अमेरिका भी यही करता है अगर इस्राएल में किसी एक यहूदी के पैर में कांटा चुभ जाए तो वह दर्द से कराहने लगता है मगर इस्राइल अगर निरंतर ग़ाज़ा के निर्दोष नागरिकों पर मौत बरसाए तो इस पर अमरीका बहादुर को कोई तकलीफ नहीं होती।ठीक इसी तरह महाराष्ट्र में अगर कोई शिव सैनिक कितना भी अत्याचार करे वह नाजायज नहीं होता मगर अपने साथ हो रहे अन्याय पर अगर कोई दूसरा व्यक्ति ज़बान खोले तो वह देश विरोधी और इंसानियत का दुश्मन है। मुस्लिम नेता ओवैसी पर उद्धव ने आज जो कटाक्ष किया है उस से तो यही प्रतीत होता है कि शिव सेना को सरे जुल्म करने का सर्टिफिकेट मिला हुवा है ,मगर दूसरों को कुछ भी बोलने का अधिकार प्राप्त नहीं है। शिव सेना की इसी मानसिकता ने आज उसकी यह दुर्गत बनाई है। मगर क्या किया जाये यदि कोई सच्चाई को स्वीकार करने की समझ से ही महरूम हो?
खबर है कि ‘‘ऑल इंडिया मजलिस ए इत्तेहादुल मुसलमीन’’ पर उद्धव ठाकरे द्वारा गहरी नाराजगी जाहिर करने के बाद, उनकी पार्टी शिवसेना ने आज हैदराबाद स्थित इस संगठन पर हमला तेज करते हुए इस पर अल्पसंख्यक समुदाय के दिमाग में ‘‘जहर भरने’’ का आरोप लगाया और महाराष्ट्र सरकार से उसके खिलाफ कड़ी कार्रवाई करने की मांग की। शिवसेना ने अपने मुखपत्र सामना में लिखे संपादकीय में कहा है ‘‘ओवैसी बंधु (सांसद असाउद्दीन और विधायक अकबरूद्दीन ओवैसी) की कट्टरपंथी विचार व्यक्त करने और उनका प्रचार प्रसार करने की आदत है। दोनों ने देश में मुस्लिमों के दिमाग में जहर भरा। नांदेड़ नगर निगम में सफलता हासिल करने के बाद अब दोनों अपना प्रभाव मराठवाड़ा क्षेत्र में फैलाना चाहते हैं।’’ उद्धव ने रविवार को एआईएमआईएम का प्रत्यक्ष तौर पर संदर्भ देते हुए कहा था ‘‘हाल ही में संपन्न विधानसभा चुनावों में, उन ताकतों ने अपने सर उठाये जो हिंदुओं के लिए खतरनाक हैं।’’ पूर्व केंद्रीय गृह मंत्री और कांग्रेस के वरिष्ठ नेता सुशील कुमार शिन्दे की पुत्री प्रणीति की, संगठन पर प्रतिबंध की मांग करने वाली टिप्पणी का समर्थन करते हुए शिवसेना ने कहा कि लोगों को आगे आना चाहिए और प्रणीति का समर्थन करना चाहिए।
मुखपत्र में लिखे संपादकीय में शिवसेना ने कहा है ‘‘प्रणीति शिन्दे ने सिर्फ भारत के लोगों की भावनाएं ही जाहिर की हैं। एआईएमआईएम जिस तरह काम करती है, शिवसेना उसके खिलाफ है। अब तो कांग्रेस तक उसके खिलाफ बोल रही है जो प्रशंसनीय है।’’ आगे कहा गया है ‘‘राज्य में हुए विधानसभा चुनाव में एआईएमआईएम ने दो सीटें जीतीं और 14 विधानसभा सीटों पर वह दूसरे या तीसरे स्थान पर रही। इससे उनके हौसले बुलंद हुए हैं। देवेन्द्र फडणवीस सरकार को इस पार्टी के खिलाफ कड़ी कार्रवाई करनी चाहिए। शिन्दे ने अपना रूख बिल्कुल साफ कर दिया है जिसकी अनदेखी नहीं की जा सकती। शिवसेना उनके साथ है।’’ एआईएमआईएम ने महाराष्ट्र में पहली बार चुनाव लड़ा और दो सीटें जीतने के साथ साथ कई इलाकों में बड़ी संख्या में मुस्लिम वोट अपने नाम किए। पार्टी ने 26 सीटों पर अपने प्रत्याशी उतारे थे जिनमें से औरंगाबाद सीट से पत्रकार इम्तियाज जलील और बाइकुला सीट से वारिस पठान चुनाव जीते। कई सीटों पर एआईएमआईएम ने स्थापित पार्टियों के वोटों में सेंध लगाई।
मीम ज़ाद फ़ज़ली
लगता है कि हमारे बहुधर्म प्रेम वाले देश में विचारधारा के साथ कुछ तत्व समाज की मानसिकता को संक्रमित करने में अमेरिका से शिक्षा ले रहे हैं। क्या इसी सोच के साथ देश की एकता और अखंडता को बचाये रखा जासकता है। इस समय शिव सेना प्रमुख उद्धव ठाकरे कुछ ऐसे ही कारनामे अंजाम दे रहे हैं। अल्पसंख्यकों और दूसरे प्रान्त के लोगों के बारे में उन की सोच से देश ही नहीं सारा संसार भली भांति परिचित है। अमेरिका भी यही करता है अगर इस्राएल में किसी एक यहूदी के पैर में कांटा चुभ जाए तो वह दर्द से कराहने लगता है मगर इस्राइल अगर निरंतर ग़ाज़ा के निर्दोष नागरिकों पर मौत बरसाए तो इस पर अमरीका बहादुर को कोई तकलीफ नहीं होती।ठीक इसी तरह महाराष्ट्र में अगर कोई शिव सैनिक कितना भी अत्याचार करे वह नाजायज नहीं होता मगर अपने साथ हो रहे अन्याय पर अगर कोई दूसरा व्यक्ति ज़बान खोले तो वह देश विरोधी और इंसानियत का दुश्मन है। मुस्लिम नेता ओवैसी पर उद्धव ने आज जो कटाक्ष किया है उस से तो यही प्रतीत होता है कि शिव सेना को सरे जुल्म करने का सर्टिफिकेट मिला हुवा है ,मगर दूसरों को कुछ भी बोलने का अधिकार प्राप्त नहीं है। शिव सेना की इसी मानसिकता ने आज उसकी यह दुर्गत बनाई है। मगर क्या किया जाये यदि कोई सच्चाई को स्वीकार करने की समझ से ही महरूम हो?
खबर है कि ‘‘ऑल इंडिया मजलिस ए इत्तेहादुल मुसलमीन’’ पर उद्धव ठाकरे द्वारा गहरी नाराजगी जाहिर करने के बाद, उनकी पार्टी शिवसेना ने आज हैदराबाद स्थित इस संगठन पर हमला तेज करते हुए इस पर अल्पसंख्यक समुदाय के दिमाग में ‘‘जहर भरने’’ का आरोप लगाया और महाराष्ट्र सरकार से उसके खिलाफ कड़ी कार्रवाई करने की मांग की। शिवसेना ने अपने मुखपत्र सामना में लिखे संपादकीय में कहा है ‘‘ओवैसी बंधु (सांसद असाउद्दीन और विधायक अकबरूद्दीन ओवैसी) की कट्टरपंथी विचार व्यक्त करने और उनका प्रचार प्रसार करने की आदत है। दोनों ने देश में मुस्लिमों के दिमाग में जहर भरा। नांदेड़ नगर निगम में सफलता हासिल करने के बाद अब दोनों अपना प्रभाव मराठवाड़ा क्षेत्र में फैलाना चाहते हैं।’’ उद्धव ने रविवार को एआईएमआईएम का प्रत्यक्ष तौर पर संदर्भ देते हुए कहा था ‘‘हाल ही में संपन्न विधानसभा चुनावों में, उन ताकतों ने अपने सर उठाये जो हिंदुओं के लिए खतरनाक हैं।’’ पूर्व केंद्रीय गृह मंत्री और कांग्रेस के वरिष्ठ नेता सुशील कुमार शिन्दे की पुत्री प्रणीति की, संगठन पर प्रतिबंध की मांग करने वाली टिप्पणी का समर्थन करते हुए शिवसेना ने कहा कि लोगों को आगे आना चाहिए और प्रणीति का समर्थन करना चाहिए।
मुखपत्र में लिखे संपादकीय में शिवसेना ने कहा है ‘‘प्रणीति शिन्दे ने सिर्फ भारत के लोगों की भावनाएं ही जाहिर की हैं। एआईएमआईएम जिस तरह काम करती है, शिवसेना उसके खिलाफ है। अब तो कांग्रेस तक उसके खिलाफ बोल रही है जो प्रशंसनीय है।’’ आगे कहा गया है ‘‘राज्य में हुए विधानसभा चुनाव में एआईएमआईएम ने दो सीटें जीतीं और 14 विधानसभा सीटों पर वह दूसरे या तीसरे स्थान पर रही। इससे उनके हौसले बुलंद हुए हैं। देवेन्द्र फडणवीस सरकार को इस पार्टी के खिलाफ कड़ी कार्रवाई करनी चाहिए। शिन्दे ने अपना रूख बिल्कुल साफ कर दिया है जिसकी अनदेखी नहीं की जा सकती। शिवसेना उनके साथ है।’’ एआईएमआईएम ने महाराष्ट्र में पहली बार चुनाव लड़ा और दो सीटें जीतने के साथ साथ कई इलाकों में बड़ी संख्या में मुस्लिम वोट अपने नाम किए। पार्टी ने 26 सीटों पर अपने प्रत्याशी उतारे थे जिनमें से औरंगाबाद सीट से पत्रकार इम्तियाज जलील और बाइकुला सीट से वारिस पठान चुनाव जीते। कई सीटों पर एआईएमआईएम ने स्थापित पार्टियों के वोटों में सेंध लगाई।
Wednesday, October 15, 2014
मोदी को चिंतित अर्थशास्त्रियों का पत्र
मोदी को चिंतित अर्थशास्त्रियों का पत्र
14 अक्तूबर 2014
भारत के 28 प्रमुख अर्थशास्त्रियों ने महात्मा गांधी राष्ट्रीय ग्रामीण रोज़गार गारंटी अधिनियम (मनरेगा) के भविष्य के प्रति चिंता जाहिर करते हुए प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी को एक पत्र लिखा है.
इस पत्र में उन्होंने 2005 में यूपीए के कार्यकाल में लागू मनरेगा से समाज के लाखों लोगों की ज़िंदगी पर पड़ने वाले असर का जिक्र किया है.
उन्होंने लिखा, "अनेक बाधाओं के बावजूद मनरेगा के अच्छे परिणाम मिले हैं. इस योजना से हर साल करीब पाँच करोड़ लोगों को रोज़गार मिलता है, जबकि इस योजना पर भारत के सकल घरेलू उत्पाद का मात्र 0.3 प्रतिशत खर्च होता है."
केंद्र में नई सरकार बनने के बाद से मनरेगा पर असर के कयास लगाए जा रहे थे.
अर्थशास्त्रियों की चिंता
अर्थशास्त्रियों ने लिखा, "मजदूरी के भुगतान में देरी होने पर क्षतिपूर्ति जैसे अधिनियम के शुरुआती प्रावधानों को समाप्त कर दिया गया है. श्रम और सामान के इस्तेमाल का अनुपात 60:40 से घटाकर 51:49 कर दिया है."
उन्होंने सरकार की तरफ़ से इसको 200 ज़िलों तक सीमित करने के प्रयासों को आर्थिक सुरक्षा और मानवाधिकार से जुड़ा मामला बताया.
उन्होंने पत्र में लिखा, "तमाम प्रयासों से लगता है कि नई सरकार की प्रतिबद्धता इस योजना के प्रति नहीं है और वह इसे सीमित करना चाहती है."
अर्थशास्त्रियों ने लिखा कि मनरेगा में भ्रष्टाचार के ख़िलाफ़ लड़ाई से अन्य सामाजिक योजनाओं में पारदर्शिता के नए मानक स्थापित करने में मदद मिली है.
इस पत्र पर हस्ताक्षर करने वाले प्रमुख अर्थशास्त्रियों में ज्यां द्रेज़, ऋतिका खेरा, अभिजीत सेन, जयंती घोस, अश्विनी देशपांडे जैसे नाम शामिल हैं.
Thursday, November 28, 2013
अल्पसंख्यकों को बिना ब्याज ऋण का तोहफा देगी बिहार सरकार
Updated on: Sat, 19 Oct 2013 03:09 PM (IST)

अल्पसंख्यकों को बिना ब्याज ऋण का तोहफा देगी बिहार सरकार
मुंबई, [ओमप्रकाश तिवारी]। बिहार सरकार ने अल्पसंख्यक वर्ग के छोटे उद्यमियों को बिना ब्याज ऋण देने की योजना तैयार कर ली है। सबकुछ ठीक रहा तो 400 करोड़ के वेंचर-कैपिटल फंड वाली यह योजना जल्दी ही राज्य में लागू हो जाएगी।
बिहार सरकार से जुड़े सूत्रों की मानें तो यह योजना अल्पसंख्यकों, विशेषकर मुस्लिमों के मजहबी सिद्धांत को ध्यान में रखकर तैयार की गई है। गौरतलब है कि यह वर्ग ब्याज से परहेज करता है। उधार दिए गए धन पर न तो ब्याज लेना पसंद करता है, न ब्याज अदा कर उधार लेना। इस मजहबी बंधन के कारण अक्सर यह वर्ग उन सरकारी योजनाओं का लाभ नहीं ले पाता, जो गरीबों में उद्यमिता का विकास करने के लिए तैयार की गई हैं। चूंकि वेंचर-कैपिटल प्रणाली के तहत 400 करोड़ रुपयों की लागत से तैयार इस योजना में बिना ब्याज के ऋण देने का प्रावधान होगा, इसलिए मुस्लिम वर्ग भी इस योजना का लाभ ले सकेंगे।
बताया जा रहा है कि मुख्यमंत्री नीतीश कुमार ने लगभग तैयार हो चुकी इस योजना का विवरण मुंबई में शनिवार को हुई बिहार राज्य औद्योगिक एवं निवेश सलाहकार समिति के सदस्यों को दिया है। उन्होंने इस योजना को और बेहतर बनाने के लिए उनसे सुझाव भी मांगे हैं। यदि कुछ सुझाव प्राप्त हुए तो उन्हें योजना में जोड़कर इसे जल्दी से जल्दी राज्य में लागू कर दिया जाएगा।
गुजरात सरकार करीब आठ साल पहले इससे मिलती-जुलती एक योजना 50 करोड़ रुपयों की राशि से शुरू की थी, लेकिन इस योजना का लाभ विशेषकर सूचना प्रोद्योगिकी क्षेत्र से जुड़े पढ़े-लिखे लोगों को ही मिल सका है। हालांकि गुजरात में इस योजना पर खर्च की जानेवाली राशि अब बढ़कर 500 करोड़ तक पहुंच गई है, जबकि बिहार में तैयार की गई योजना एक वर्ग विशेष को ध्यान में रखकर तैयार की गई है। बिहार सरकार इसे इंसाफ के साथ तरक्की का नारा देकर लागू करना चाहती है। इसका लाभ बिहार में रह रहे लोगों को तो मिलेगा। साथ ही ऐसे बिहारी या गैरबिहारी लोग भी इस योजना का लाभ उठा सकेंगे जो अभी बिहार से बाहर रह रहे हैं, लेकिन बिहार लौटकर लघु या सूक्ष्म उद्योग शुरू करना चाहते हैं।
अल्पसंख्यकों को बिना ब्याज ऋण का तोहफा देगी बिहार सरकार
मुंबई, [ओमप्रकाश तिवारी]। बिहार सरकार ने अल्पसंख्यक वर्ग के छोटे उद्यमियों को बिना ब्याज ऋण देने की योजना तैयार कर ली है। सबकुछ ठीक रहा तो 400 करोड़ के वेंचर-कैपिटल फंड वाली यह योजना जल्दी ही राज्य में लागू हो जाएगी।
बिहार सरकार से जुड़े सूत्रों की मानें तो यह योजना अल्पसंख्यकों, विशेषकर मुस्लिमों के मजहबी सिद्धांत को ध्यान में रखकर तैयार की गई है। गौरतलब है कि यह वर्ग ब्याज से परहेज करता है। उधार दिए गए धन पर न तो ब्याज लेना पसंद करता है, न ब्याज अदा कर उधार लेना। इस मजहबी बंधन के कारण अक्सर यह वर्ग उन सरकारी योजनाओं का लाभ नहीं ले पाता, जो गरीबों में उद्यमिता का विकास करने के लिए तैयार की गई हैं। चूंकि वेंचर-कैपिटल प्रणाली के तहत 400 करोड़ रुपयों की लागत से तैयार इस योजना में बिना ब्याज के ऋण देने का प्रावधान होगा, इसलिए मुस्लिम वर्ग भी इस योजना का लाभ ले सकेंगे।
बताया जा रहा है कि मुख्यमंत्री नीतीश कुमार ने लगभग तैयार हो चुकी इस योजना का विवरण मुंबई में शनिवार को हुई बिहार राज्य औद्योगिक एवं निवेश सलाहकार समिति के सदस्यों को दिया है। उन्होंने इस योजना को और बेहतर बनाने के लिए उनसे सुझाव भी मांगे हैं। यदि कुछ सुझाव प्राप्त हुए तो उन्हें योजना में जोड़कर इसे जल्दी से जल्दी राज्य में लागू कर दिया जाएगा।
गुजरात सरकार करीब आठ साल पहले इससे मिलती-जुलती एक योजना 50 करोड़ रुपयों की राशि से शुरू की थी, लेकिन इस योजना का लाभ विशेषकर सूचना प्रोद्योगिकी क्षेत्र से जुड़े पढ़े-लिखे लोगों को ही मिल सका है। हालांकि गुजरात में इस योजना पर खर्च की जानेवाली राशि अब बढ़कर 500 करोड़ तक पहुंच गई है, जबकि बिहार में तैयार की गई योजना एक वर्ग विशेष को ध्यान में रखकर तैयार की गई है। बिहार सरकार इसे इंसाफ के साथ तरक्की का नारा देकर लागू करना चाहती है। इसका लाभ बिहार में रह रहे लोगों को तो मिलेगा। साथ ही ऐसे बिहारी या गैरबिहारी लोग भी इस योजना का लाभ उठा सकेंगे जो अभी बिहार से बाहर रह रहे हैं, लेकिन बिहार लौटकर लघु या सूक्ष्म उद्योग शुरू करना चाहते हैं।
Friday, November 22, 2013
RSS"S URDU CHANNEL AND MADRASA'S MASSAGE
آرایس ایس کے اردوچینل اورمدرسہ کاپیغام
سچ بول دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میم ضادفضلی
گزشتہ دنوں انٹرینٹ میڈیا کے ذریعہ یہ خبر آئی تھی کہ جلد ہی ملک کی بدنام زمانہ ہندو شدت پسند تنظیم آر ایس ایس ایک اردو چینل لانچ کرنے جارہی ہے ۔فیس بک پر اسی کے ساتھ یہ خبر بھی اپ لو ڈ کی گئی تھی کہ آر ایس ایس مسلم بچوں کی رہنمائی کیلئے صحیح اسلامی تعلیم فراہم کرنے کا نظم کرے گی۔ جس میں مذہب کی جانکاری کے ساتھ ساتھ حب الوطنی پر مشتمل مضامین خصوصی طور پر پڑھائے جائیں گے ۔ آر ایس ایس کا یہ منصوبہ کوئی نیا نہیں ہے ۔ آر ایس ایس کے سابق ترجمان گریش جویال نے راقم الحر و ف سے پانچ سال قبل ہی اس منصوبے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاتھاکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ایسے مدارس کا نظام قائم کرنے کی تیاری کررہی ہے ۔ ہمیں اس وقت بھی آر ایس ایس کا یہ منصوبہ برا نہیں لگا تھا اور آج بھی جب اس نے اردو چینل اور مذہبی تعلیم کے حوالے سے اقدامات کی بات کی ہے تو یہ سن کر کوئی حیرت نہیں ہوئی اور نہ اس منصوبے میں اعتراض کا کوئی پہلو نظر آیا جس سے کہ فرقہ پرست طاقتوں کو گالیاں بول کر قوم کو الو بنانے کی کوشش کی جائے ۔ ہم نے ہمیشہ یہ کام ان خیراتی تنظیموں کے آقاؤں کے حوالے کر رکھا ہے ۔ جن کی زندگی کا نصب العین یہ ہے کہ ’اپنا کام بنتا جہنم میں جائے جنتا ‘ دراصل ہماری ملی تنظیموں کے آقاؤں نے یہ باور کرلیا ہے کہ غریبوں کے نام پر سب کچھ جمع کیا جائے مگر اس کا ایک پائی بھی ادھر سے ادھر نہ ہونے پائے ۔ بلکہ سارا کا سارا اپنی مٹھی ہی میں قید رہے ۔ آرایس ایس کے خیمے سے مذکورہ خبر آنے کے بعد ملت فروشوں کی باسی کڑھی میں ایک بارپھرابال آگیا ہے ۔ خصوصاً مغربی اترپردیش کے سادہ لوح دیہی باشندوں اور ان پڑھ اور بھولے بھالے دیہاتیوں کو اس کام پر لگادیا گیا ہے کہ وہ شور شرابا کریں اور آر ایس ایس کیخلاف مردہ باد کے نعرے لگائیں اور گلی کوچوں میں یہ صدائیں عام کی جائیں کہ آر ایس ایس کے ذریعہ چلائی جانے والی تعلیمی مہم یا اردو چینل کا مقصد مسلمانوں کو رسوا اور ذلیل کرنا ہوگا لہذا آرایس ایس کے اس منصوبہ کو کسی طرح بھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے ۔ جس وقت میں یہ خبر پڑھ رہاتھا مجھے ہنسی آرہی تھی اور یہ سوال میرے ذہن وفکر میں کچوکے لگا رہا تھا کہ کیا صرف زندہ باد اور مردہ باد جیسے نعروں کے ذریعہ ہماری قوم کے ٹھیکدار آر ایس ایس کے چینل دیکھنے سے پورے سواد اعظم کو روک پائیں گے۔ کیا یہی مسئلہ کا حل ہے ، کیا صر ف فتاووں کے ذریعہ ملت کی زبوں حالی دور کی جاسکتی ہے ۔ یا ملت کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرانے کی وہ تدبیریں بروے کار لانے کی ضرورت ہے، جس سے ملت اسلامیہ باطل کی مذموم سازشوں کا شکار بننے سے بچ جائے۔ مجھے یادآتا ہے آج سے 37سال قبل مائیکل ہیٹن کی کتاب منظر عام پر آئی تھی۔اس کتاب کا موضوع وہ سو افراد تھے جنہوں نے تاریخ انسانی میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے تھے ، جن کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی تھی۔ کتاب میں ساتویں او رآٹھویں نمبر پر سائلون اور جوہانس گٹن برگ تھا۔ سائی لون وہ چینی موجد ہے جس نے 1930میں کاغذ کا ایجاد کیا تھا۔ جب کہ چودہ ویں صدی میں جرمنی کا باشندہ گیٹن برگ چھاپا خانہ ایجاد کرنے میں کامیاب ہوا ۔اتفاق سے تاریخ ہندکی آنکھوں نے ایسے دوربھی دیکھے ہیں جب ملت سلامیہ کے قدم ترقی سے روکنے والی مغربی سازشوں کوکامیاب بنانے والے ہمارے عمائدین ایسے نازک دور میں بھی سادہ لوح مسلمانوں کواپنے فتاووں کے ذریعہ بڑی حدتک روکنے میں اہم کردارکیاہے۔اس وقت بھی مسلمانوں کویہی بتایاگیاانگریزوں کی زبان اوران کی ایجادات سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے ۔ ممکن ہے ان فتاووں کی حیثیت شرعی نہ ہوکرسیاسی ہوں جن کامقصدانگریزوں کیخلاف اپنی نفرت کااظہار ہو۔کیونکہ اس قسم کے فتاووں کی کوئی ایسی شرعی وجوہات نہیں ہے جنہیں محکمات یامحرمات کادرجہ حاصل ہو۔البتہ کسی بھی زبان کے سیکھنے سے قوم کومنع کرنااسی طرح جدیدایجادات سے استفادہ کیخلا ف آوازاٹھاناقوم کی تعمیروترقی کی راہوں میں گڑھے کھودنے جیساعمل ہے جسے قوم نے نہ کل پسند کیا تھا اورنہ آج کابیدارمعاشرہ اس کی حمایت کرنے کوتیارہے۔آپ آرایس ایس کے چینل سے قوم کومحفوظ رکھنے سے اسی صورت میں کامیاب ہوسکتے ہیں جب انہیں کوئی بہترمتبادل فراہم کرادیں۔یہی بات آرایس ایس کے تعلیمی اداروں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے ۔آپ نے آرایس ایس کی سازشوں سے ملت کومحفوظ رکھنے کیلئے جونعرے بازی اوراحتجاج کاطریقہ اختیارکیا ہے ایسی حرکتوں کو جذباتی بلیک میلنگ توکہہ سکتے ہیں ملت اورمذہب سے ہمدردی کی بے تابی نہیں کہہ سکتے۔ ایسانہیں ہے کہ آپ لوگوں کے پاس آرایس ایس کی سازشوں کاعملی حل پیش کرنے کیلئے وسائل موجودنہیں ہیں۔آپ اگرچاہیں توایسے اسکولوں کے قیام کویقینی بناسکتے ہیں جہاں غریب بچوں کیلئے دینی اورعصری تعلیم کانظم بھی کرسکتے ہیں۔ایسابھی نہیں ہے کہ ملت کے ٹھیکیداروں نے معیاری اورمثالی اسکولوں کاقیام نہیں کیاہے۔ڈی پی ایس اورنیوہورائزن اسکول جیسے سیکڑوں تعلیمی اداروں کے سربراہ خودمسلم لیڈران یاسرمایہ دارحضرات ہیں۔المیہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اسکولوں میں اتنی مہنگی فیس رکھی ہے جسے اداکرنا99فیصدمسلمانوں کے بس سے باہرہے۔مختصر یہ کہ تعلیم کی تجارت کاچلن بھی اعلیٰ طبقات کے ذریعہ ہی عام ہواہے۔آپ آرایس ایس کی تعلیم گاہوں سے غریب قوم کے نونہالوں کواس وقت تک روک پانے میں کامیاب نہیں ہوں گے جب تک آپ اسی معیاراوراسی کے مساوی سہولیات سے آراستہ تعلیمی ادارے کاقیام یقینی نہیں بناتے۔مگرمجھے یقین ہے کہ انسانی خریدوفروخت کے دکانداراورنام نہادرفاہی اداروں کے مالکان کواس مثبت تقاضے کوپور ا نہیں کر نا ہے ، ان کی نیت میں کھوٹ ہے ،انہیںیہ کبھی یہ پسند نہیں ہوسکتاکہ ان کے بچوں کی طرح غریب مسلمانوں کے جگرگوشے بھی اعلی تعلیم سے فیضیاب ہوں اوران کے برابربیٹھنے کی صلاحیت حاصل کرلیں۔ابھی چندماہ قبل ہی خط افلاس سے نیچے زندگی گذارنے والے کچھ لوگوں نے شکایت کی تھی کہ نیوہورائزن اورڈی پی ایس جیسے معیاری پرائیویٹ ادارے بی پی ایل خاندانوں کے بچوں کو عدالت عظمیٰ اورپارلیمنٹ کی ہدایات کے مطابق ریز رویشن کوتیارنہیں ہیں۔پھران سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے ان کے احتجاج اورمظاہروں کی اہم وجہ ملت اورمذہب سے انتہائی درجہ محبت ہے۔بلکہ ان کے اعمال خودگواہی دے رہے ہیں کہ ان کے نعروں کی حقیقت شعبدہ بازی اوراپنی دکان چمکانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ آرایس ایس نے مسلم بچوں کی اعلیٰ تعلیم کیساتھ معیا ر ی اورعمدہ رہائش کامنصوبہ تیارکیاہے۔اگریہی سہولیات ہمارے نام نہاد ملی قائدین بھی فراہم کرادیں توکوئی وجہ نہیں ہے کہ غریب مسلمانوں کے بچے آرایس ایس جیسی انسانیت دشمن مشینریزکی سازشوں کانوالہ بنیں۔مگرہمارے یہاکوئی ایماندارانہ اورعملی پروگرام کبھی رائج نہیں رہا۔ہم نے ہمیشہ سالوح غریب قوم کوورغلانے،ان کاجذباتی استحصال کرنے اورسڑکوں پراتارکرگاجرمولی کی طرح کٹوانے میں ہی ساری کامیابی اوربھلائی باورکررکھی ہے۔
ایسابھی نہیں ہے کہ اس عظیم منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ملت کے ہمدردسرمایہ داروں کے اندر ایثار کا جذبہ نہیں ہے۔اللہ کاشکرہے کہ امت مسلمہ کی ترقی کیلئے اس کی عطاکردہ دولت کودونوں ہاتھوں سے لٹانے والے بہی خواہوں کی تعدادہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے۔ وہ اس قسم کے منصو بو ں کیلئے آوازدینے والوں کی آوازسے آوازملانے میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔مگراس کاکیاکیجئے گاکہ ان کے عطایاکواپنی تجوریوں میں محفوظ کردینے والوں نے ہمارے ملی سرمایہ داروں کواس قدرمایوس کردیاہے کہ ان کے حوصلے پست ہونے لگے ہیں۔کچھ اسی قسم کی بات جدیدذرائع ابلاغ اورصحافت کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ہم تمام وسائل کے باوجوداپنی قوم کوغیروں کے ذریعہ پیش کی جانے والی پالیسیوں کامتبادل نہیں دیتے مگراس سے بازرہنے کیلئے انہیں سڑکوں پراتارکرکٹوانے میں ہی ساری ترقی کومضمرسمجھتے ہیں۔ ہم نے سطوربالامیں ہی اپنے اندیشے کااظہارکردیاہے کہ باطل خصوصاًاسلام مخالف طاغوت نے منصوبہ بند طریقے سے مسلمانوں کوترقی سے محروم رکھنے سازشیں مر تب کیں اورہم جدیدایجادات اورعصری تعلیم سے قوم کومحروم رکھنے کے فتوے دیکران سازشوں کی کامیابی یقینی بنادی۔
Mob.09911587378Thursday, September 19, 2013
اردو شاعری کے آغاز کا پس منظر Urdu Shayeri ke farogh ka pasmanzar
عرب اور ایران سے ہندوستان کے تجارتی تعلقات بہت قدیم زمانہ سے ہیں ۔عرب ایک ریگستانی ملک ہے چونکہ زراعت کے لیے اس میں پانی کے ذخیرے اورزندگی بسر کرنے کے لیے روزی کمانے کے امکانا ت بہت کم ہیں۔اس لیے عربوں نے تجارت کو اپنا اہم پیشہ بنایا۔ وہ جہازوں اور اونٹوں کے ذریعہ ناریل،کالی مرچ،لونگ،مشک،مسالے ،چاندی اور ہاتھی دانت کی مصنوعات وغیرہ ہندوستان سے یورپ،چین اور عرب کی منڈیوں میں پہنچاتے تھے اور کچا مال مثلاً نارنگی،انناس ،شہتوت اورسیب لاکر ہندوستان کی منڈیوں میں فروخت کیا کرتے تھے۔خلفاے راشدین کے بعد عرب میں توسیع پسندی کا جذبہ جڑ پکڑنے لگا تو محمد بن قاسم صوبۂ سندھ پرفتح حاصل کرلیتے ہیں مگر ملکِ شام کی مرکزی سلطنت کمزور ہوجاتی ہے اور یہ ہونہار سپہ سالار مرکز کے اشارے سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔
مسلمان جب برِّ صغیر ہند و پاک میں داخل ہوئے تو عربی، فارسی اور ترکی بولتے آئے اور جب ان کا اقتدار قائم ہوا تو فارسی سرکاری زبان ٹھہری ۔تاریخ شاہد ہے کہ حاکم قومیں اپنی زبان اور اپنا کلچر ساتھ لاتی ہیںاور محکوم قومیں جن کی تہذیبی و تخلیقی قوتیں مُردہ ہوجاتی ہیں، اُس زبان اور کلچرسے اپنی زندگی میں نئے معنی پیدا کرکے نئے شعوراور احساس کو جنم دیتی ہیں۔محمد بن قاسم سے محمود غزنوی تک اور محمود غزنوی سے بابر کی فتح تک کازمانہ تقریباًآٹھ سوسال کو محیط ہے ۔ مسلمانوں کا کلچر ایک فاتح قوم کا کلچر تھا۔جس میں زندگی کی وسعتوں کو اپنے اندر سمیٹنے کی پوری قوت موجود تھی۔اس کلچر نے جب ہندوستان کے کلچر کو نئے انداز سکھائے اور یہاں کی بولیوں پراپنا اثر ڈالاتوان بولیوں میں سے ایک نئی بولی کاجنم ہوا جو وقت کے تہذیبی ،معاشرتی و لسانی تقاضوں کے سہارے مسلمانوں اور برِّ صغیر کے باشندوں کے درمیان مشترک اظہار و ابلاغ کا ذریعہ بن گئی۔فاتح و مفتوح کے امتزاج سے وجود میں آنے والی اس بولی کو کبھی لشکری تو کبھی ریختہ تو کبھی ہندی، ہندوی اور ہندوستانی دہلوی وغیرہ کا نام دیا گیااور آج اسی کو ’’اردو ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
محمد بن قاسم کے خاصے عرصے کے بعد محمود غزنوی کی مرکزی سلطنت سندھ اور پنجاب تک پھیل گئی ۔کہا جاتا ہے کہ دولت کی ہوس نے اسے اندھا بنا دیا تھا۔ شاید ان کے کردار کی یہ ایک کمزوری ہو مگر وہ بڑے دین دار ،دلدار اور فراخ دل بادشاہ تھے ۔انھوں نے ہندوستان سے تعلقات استوار کرنے کے لیے اپنی سرکاری مہرمیں سنسکرت کے الفاظ کندہ کرائے تھے۔ان کے عہد میں سنسکرت کی بہت سی کتابیں فارسی میں ترجمہ کی گئیں۔ان کے زمانے میں خواجہ مسعود سعدؔ سلمان (۴۳۸ھ -۵۱۵ھ/۱۰۴۶ئ-۱۱۲۱ئ)جیسا قادرالکلام شاعر پیدا ہوا جس نے عربی ،فارسی ،ترکی ،اور ہندوی(اردو)میں شاعری کی اور اپنے پیچھے تین دیوان چھوڑے جو تازی،پارسی اور ہندوی میں ہیں۔انھیں ہندوی کا پہلا شاعر ماناجاتا ہے جو کہ لاہور کے رہنے والے تھے۔جن کے بارے میں امیر خسروؔ نے ’’غرۃ الکمال‘‘ کے دیباچے میں تحریر کیا ہے کہ :
’’پیش ازیںشاہانِ سخن کسے را سہ دیوان نبودہ مگر مراکہ خسرو ممالک کلامے۔مسعود سعد سلمان را اگر ہست اماآں سہ دیوان در عبارت عربی و فارسی و ہندی است و درپارسی مجرد کسے سخن را سہ قسم نکردہ جز من‘‘
(تاریخِ ادبِ اردو:ڈاکٹر جمیل جالبی،ج :۱،ص:۲۳)
امیرخسروؔ کی فارسی مثنوی ’’تغلق نامہ‘‘ میں ایک جملہ’’ہے ہے تیر مارا‘‘ ملتا ہے جو ہندوی زبان کے مخصوص آہنگ کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسعود سعد سلمان کی زبانِ ہندوی سے خسروؔ کون سی زبان مراد لیتے ہیں۔
حافظ محمود شیرانی کے مطابق:’’ اردو کا قدیم نام ہندی یا ہندوی ہے‘‘(پنجاب میں اردوص۲۳)جس سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہونچتی ہے کہ مسعود سعد سلمان نے جس زبان(ہندوی) میں شاعر ی کی ہے وہ ’’اردو ‘‘ ہی ہے۔مسعود سعد سلمان کاہندوی دیوان ناپید ہوچکا ہے۔اگر یہ دست یاب ہوجاتا ہے تو لسانیات سے متعلق بیش تر مسائل خصوصاً اردو زبان کے ارتقائی مراحل کے بہت سارے گم شدہ ابواب روشن ہوجائیں ۔
محمود غزنوی کے بعد جب غوری دورآیاتو سلطان شہاب الدین کی سلطنت کا رقبہ دہلی تک وسیع ہوگیا اوراس نے قطب الدین ایبکؔ کو دہلی کا صوبہ دار مقرر کیا ۔ہندو اور مسلم دونوں قوموں کے تہذیبی ،معاشرتی اور لسانی ملاپ سے جس نئی زبان نے جنم لیا تھااُس نَو مولود زبان کے شعرو ادب میں اس دور میں رفتہ رفتہ ترقی کی شروعات ہوئی ۔خلجی اور تغلق حکومتوں کے دور میں امیر خسروؔ ،ابوالحسن یمین الدین(۱۲۵۳ئ-۱۳۲۵ئ)کی بلندو بالا شخصیت اردو زبان و ادب کی ابتدائی تشکیل میں بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔امیر خسرو ۹۹؍ تصانیف کے مصنف تھے اور بنیادی طور پر فارسی کے بہت بڑے شاعر اور عالم تھے ۔ان کے دوہے ،نظمیں ،انملیاں،مکرنیاں، پہیلیاں،اور لوریاں لسانی اعتبار سے کافی اہمیت کی حامل ہیں۔خسروؔ پہلے ماہرِلسانیات تسلیم کیے جاتے ہیں جنھوں نے ہندوستان کی زبانوںکو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ایک ہندی ،دوسری دہلوی ،جو دوآبہ کے علاقوں میں بولی جاتی تھی اور جس میں خسروؔ نے شعر کہے اور دوہے ،انملیاں، مکرنیاں ،پہیلیاں وغیرہ مدون کی ہیں ۔دراصل یہی زبان آگے چل کر ’’اردو‘‘کے نام سے معنون ہوئی۔آج خسروؔ کا جو کچھ بھی اردو کلام ملتا ہے وہ بعض محققین کے نزدیک مستند نہیں ہے، لیکن یہ بات بہر حال اپنی جگہ مسلم ہے کہ امیرخسروؔ نے اردو میں شاعری کی ہے۔چنانچہ ’’غرۃ الکمال ‘‘ کے دیباچے میں خود خسروؔ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ’’جزوے چند نظم ہندی نذرِ دوستان کردہ است‘‘۔خسروؔ سے پہلے ہندوی کے شاعر کی حیثیت سے مسعود سعد سلمان مشہور تھے۔اس لحاظ سے اردو شاعری کے بنیاد گزاروں میں مسعود سعد سلمان اور امیرخسروؔ خشتِ اوّل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔امیر خسروؔ کے کلام کو دیکھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اب یہ زبان قدیم اُپ بھرنش سے آگے نکل کر اپنی تشکیل کے اک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے اور جس پر کھڑی بولی اور برج بھاشا دونوں اثر انداز ہوئی ہیں ۔
خسروؔ کی شاعری میں یہ انفرادیت ملتی ہے کہ انھوں نے ایک مصرع فارسی اور ایک مصرع اردو کا قلم بند کیا تو کہیں آدھا مصرع فارسی میں میں تو آدھا اردو میں …ذیل میںاس طرح کے کلام کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں ؎
زحالِ مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہوں کاہے لگائے چھتیاں
شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چو عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
حضرت نظام الدین اولیا کی وفات پر خسرو نے جو شعر کہا وہ بھی اسی رنگ و آہنگ کا آئینہ دار ہے
گوری سووے سیج پہ اور مکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے سانج بھئی چوندیس
اردو شاعری کی جس روایت کو مسعود سعد سلمان اور امیرخسرو نے شروع کیا اس کو آگے بڑھانے میں چندمحققین کے خیال میں صوفیاے کرام کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔بل کہ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے نزدیک تو اردو شاعری کا آغاز مذہبی شاعر سے ہی ہوا ہے جو کہ صوفیائے کرام کی رہینِ منت ہے۔
اردو زبان و ادب کے نشوونما سے متعلق ماہرینِ لسانیات کے فراہم کردہ مواد ،اردو زبان کی اوّلین تخلیقات اور بزرگانِ دین کے ملفوظات کی روشنی میں یہ بات قطعیت کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اردو بان کے فروغ اوراس کے نشوونما میں صوفیاے کرام نے نمایاں کردار اداکیا ہے ۔یہ بے لوث اور مخلص لوگ بندگانِ خدا تک خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے بے تاب تھے ۔وہ لوگوں کے دروازوں ہی پر نہیں ان کے دلوں پر بھی دستک دینا چاہتے تھے ۔ظاہر ہے اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنا پیغام عوام تک خود ان کی زبان میں پہنچائیں۔ چنانچہ صوفیاے کرام نے خواص کی ادبی زبان کے بجائے عوام میںرائج زبان کو اپنی پیغام رسانی کا وسیلۂ اظہار بنایا اور انہیں کی بولی میں تعلیم و تلقین فرمائی ۔صوفیاے کرام جس خطے میں جاتے وہاں کی زبان سیکھ کر اس خطہ کے لوگوں تک انہیں کی زبان میں اپنا پیغام پہنچاتے۔ اس طرح انہوں نے عوامی زبان کے دائرے کو وسیع کیا اور اپنی ضرورت کے مطابق نئے نئے الفاظ استعما ل کرکے اس زبان کے ذخیرۂ الفاظ میں قابلِ قدر اضافہ کیا ۔بابائے اردو مولوی عبدالحق صوفیائے کرام کو اردو کا محسن خیال کرتے ہیں ۔
اردو زبان، اردو شاعری اوراردو نثر نگاری کو بنیاد فراہم کرنے والے اور اس کی اوّلین روایتوں کی تشکیل میں نمایا ں کردار اداکرنے والے صوفیاے کرام میںشیخ فریدالدین مسعود گنج شکر(۱۱۷۳ئ/۱۲۶۵ئ)،شیخ باجن(۱۳۸۸ئ/۱۵۰۶ئ)،شیخ حمید الدین ناگوری(۱۱۹۳ئ/۱۲۷۴ئ)، امیرخسرو(۱۲۵۳ئ-۱۳۲۵ئ)،شیخ شرف الدین بوعلی شاہ قلندر پانی پتی(م۱۳۲۳ئ)،شیخ شرف الدین یحییٰ منیری(م۱۳۸۰ئ)،شیخ عبدالقدوس گنگوہی (م۱۵۳۸ئ)وغیرہ کے اسماے گرامی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ۔ان میں زیادہ تر حضرت نظام الدین اولیا محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدین،خلفا اور متوسلین ہیں ۔ان صوفیائے کرام نے اردو نثر کے ساتھ ساتھ اردو شاعری کے عروج و ارتقا میں اپنا خونِ جگر لگایا۔چنانچہ بابا فریدالدین مسعود گنج شکر کے کئی دوہے اور ریختے ملتے ہیں:مثلاً
سائیں سیوت گل گئی ماس نرھیا دیہہ
تب لگ سائیں سیوساں جب لگ ہوسوں کیہہ
راول دیول ہمے نہ جائیے
پھاٹا پہنہ روکھا کھائیے
ہم دروشنہ اہے ریت
پانی لوریں اور مسیت
(تاریخِ اردو ادب: ڈاکٹر جمیل جالبی، ج:۱،ص:۳۷)
علاوہ ازیں دیگر صوفیائے کرام کے دوہے اور ریختے جو خالص ہندوی یعنی اردو میں ہیں ذیل میں ملاحظہ ہوں ؎
بوعلی شاہ قلندر پانی پتی:
ساھرے نہ مانیو پیو کہ نہیں تھانو
کُنہہ نہ بوجھی بات اوی دھنی سہاگن نانو
سجن سکارے جائیں گے اور نین مریں گے روئے
بدھنا ایسی رین کر بھور کدھی نہ ہوئے
شیخ شرف الدین یحییٰ منیری:
کالا ہنسا نہ ملا بسے سمندر تیر
پنکھ پسارے یکہ ہرے ارمل کرے سریر
درد رہے نہ پیڑ
شرف حرف مائل کہیں درد کچھ نہ بسائے
گرد چھوئیں دربار کی سودرد دور ہوجائے
شیخ عبدالقدوس گنگوہی:
جگ بھایا چھوڑ کر ہوں تُج جوگن ہوں
باج پیاری ہے سکھی ایکو جگ نہ لئیوں
جے پیئو سیج تو نیند نہلیں پردیس تو یوں
برہ برودھی کامنی نا سکھ یوں نہ یوں
جدھر دیکھوں ہے سکھی دیکھوں اور نکوئے
دیکھا بوجہہ بچار مَنہہ سبھی آپیں سوئے
اردو شاعری کے ارتقا میں جہاں ایک طرف صوفیائے کرام نے کوششیں کیں تو وہیں دوسری طرف غیر مسلم سنتوں نامدیوؔ(۱۲۷۰ئ/۱۳۵۰ئ)،کبیرؔ داس (م۱۵۱۸ئ)اور گرونانکؔ(۱۴۶۹ئ/۱۵۳۸ئ) بھگتی تعلیمات کی اشاعت میں راجستھانی ،برج بھاشا اور پنجابی زبانوں کا استعما ل کررہے تھے ،جن پر عربی،فارسی ،ترکی اور سنسکرت کے الفاظ بھی نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔ان سنتوں نے بھگتی تحریک کو عوام و خواص تک پہنچانے کے لیے شاعری کو وسیلۂ تبلیغ بنا تے ہوئے دوہے،راگ،راگنی وغیرہ قلم بند کیں ۔
نام دیو بنیادی طور پر مراٹھی کاشاعر تھالیکن ’’گرو گرنتھ صاحب)) میں اس کا جو کلام ملتا ہے وہ ہندوی یعنی اردو کے آہنگ میں مکمل طور سے ڈھلا ہوا ہے ،دو شعر ملاحظہ ہوں ؎
مائے نہ ہوتی باپ نہ ہوتا کرم نہ ہوتی کائیا
ہم نہیں ہوتے تم نہیں ہوتے کون کہاں تے آئیا
چند نہ ہوتا سور نہ ہوتا پانی پون ملایا
شاست نہ ہوتا بید نہ ہوتا کرم کہاں تے آیا
بھگتی تحریک کے سب سے بڑے اور مشہور ترین شاعر کبیرؔ ہیں جو بنارس کے رہنے والے اور ذات کے جولاہے تھے۔وہ توحید کے علم بردار تھے ،بت پرستی کی شدید مخالفت ان کا ایمان تھا ۔وہ کہتے تھے’’ جسے خدا مل گیا اسے سب کچھ مل گیا ‘‘۔اپنے انھیں خیالات کی تبلیغ کے لیے انھوں نے شاعری کا سہارا لیا ،اور اردو شاعری کو عروج بخشا۔انھوں نے صنفِ دوہا کو ہی زیادہ تر استعمال کیا یہی وجہ ہے کہ جب دوہا کا ذکر نکلتا ہے تو ذہن خوبخود کبیرؔ کی طرف چلا جاتا ہے ۔’’بیجک‘‘ اور ’’بانی‘‘ ان کے مجموعۂ کلام ہیں ،جن سے چند دوہے ذیل میں ملاحظہ ہوں ؎
کل کرے سو آج کر ، اج کرے سو اب
پل میں پرلے ہوئے گی پھیر کرے گا کب
کال کرے سو آج کر ، آج ہے تیرے ہاتھ
کال کال تو کیا کرے ، کال ہے کال کے ساتھ
کبیرؔ سریر سرائے ہے کیا سوئے سکھ چین
سوانس نگارا باج کا باجت ہے دن رین
کبیرؔ نے عوامی زبان،لب ولہجے ،آہنگ اور ترنم کے ساتھ آسان اور سلیس اسلوب میں اپنے نظریات کو دوہوں میں قلم بند کیا ہے۔انھوں نے عوامی زبان کو اسی انداز میں استعمال کیاجیسی وہ بولی جارہی تھی ،فارسی،عربی اور ترکی کے بیش تر الفاظ بھی ان کے دوہوں میں ملتے ہیں۔
علاوہ ازیں کبیرؔ ہی کے ایک پیروکار گرونانک ؔ نے بھی اردو شاعری کے فروغ میں اچھا خاصا حصہ لیا۔ڈاکٹر جمیل جالبی کے مطابق:
’’گرونانک (۱۴۶۹ئ-۱۵۳۸ئ)اور ان کے جانشین بنیادی طور پر کبیرؔ ہی کے مسلک کے پیرو ہیں۔کبیرؔ کی فکر نے گرونانک کے فکر اور خیال کو جنم دیا جو رفتہ رفتہ ایک نئے مذہب کی شکل میں ڈھل گئے…گرونانک نے کبیرؔ کو اپنا پیشوا کہا ہے ۔۱۴۹۶ء میں گرونانک کی کبیر سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔شیخ عبدالقدوس گنگوہی نے،جن کا سالِ وفات وہی ہے جو گرونانک کاہے،اپنے خطوط میں گرونانک کا ایک دوہا لکھا ہے:
موبو پیاس نانک لہو پانی
پیو سو رانڈ سہاگن نانوں‘‘
(تاریخِ اردو ادب:ڈاکٹر جمیل جالبی،ج:۱، ص:۴۷)
گرونانک کے کلام میں پنجابی کے ساتھ کھڑی بولی کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔گرو گرنتھ صاحب میں عربی،فارسی الفاظ بھی بکثرت موجود ہیں اور اس میں اردو زبان کی جو شکل و صورت ملتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے نظریات کی تبلیغ و اشاعت کے لیے اس زبان کا سہارا بھی لیا ہے۔گرو گرنتھ صاحب سے گرونانک کے اردو کلام کی مثالیں ذیل میں ملاحظہ ہوں :
پیر پیکامبر (پیغامبر) اور سہید (شہید)
سیکھ مسائک (شیخ مشائخ) کاجی (قاضی) ملّاں
در درویس رسید (درویش رشید)
برکت تن کو اگلی پڑھدے رھن دروٗد
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
مِہر مسیت (مسجد) سدک (صدق مصلّا)
ھک ھلال (حق حلال) کران (قرآن)
سرم (شرم) سنت سیل روجہ (روزہ) ھوھو مسلمان
کرنی کابا (کعبہ) سچ پیر کلما (کلمہ) کرم نواج (نماز)
تسبیہہ (تسبیح) ساتس بھاوسی نانک رکھے لاج
گرونانک کے کلام میں عربی ،فارسی الفاظ کو ہندوی سانچے اور تلفظ میں جس انداز سے استعمال کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی زبان کی ساخت اور لب و لہجے پر اردو زبان کا گہرا اثر تھا۔آپ نے بھی دوہوں کے ذریعے اردو شاعری کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔
اردو شاعری کے فروغ میں جہاں ایک طرف شمالی ہند کے مسلم صوفیائے کرا م اور غیر مسلم سنتوں نے حصہ لیا تو وہیں دوسری طرف جنوبی ہند میں بھی اردو شاعری رفتہ رفتہ پروان چڑھ رہی تھی ۔دراصل جب تغلق نے دیو گیر(دولت آباد) کو اپنا دارالخلافہ بنایا تو اس کے ساتھ کئی ہزار لوگوں نے نقل مکانی کرکے جنوبی ہند کو آباد کیا جن میں صوفیہ،علما،صلحا،ادبا،شعرا،اطباوغیرہ بھی شامل تھے ۔جنھوں نے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے اپنی زبان کا استعمال تو کیا لیکن جنوبی ہند کے لوگوں سے میل ملاپ کے نتیجے میں دکنی اردو کا آغاز ہوا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شمالی ہند کی بہ نسبت جنوب میں اردو شاعر نے بے پناہ ترقی کی ۔بہمنی اور عادل شاہی سلطنت کے بعد جب قطب شاہی سلطنت کا عروج و اقبال ہوا تو اس کے بادشاہوں نے شعر و ادب کی نہ صرف سرپرستی کی بل کہ وہ خود بھی دکنی اردو کے باکمال شعرا کہلائے، چنانچہ اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر قطب شاہی سلطنت کا ایک فرما ں روا محمد قلی قطب شاہ معانی (988ھ تا1020ھ/1580ء تا1611ئ)ہی کہلاتا ہے۔جنوبی ہند میں خواجہ بندہ نواز گیسو دراز،فخر دین نظامی،اشرف بیابانی،میراں جی شمس العشاق،قریشی،لطفی،مشتاق،وجہی،غواصی،ابن نشاطی،فائزؔ،نصرتیؔ،ولیؔ اور سراجؔ وغیرہ نے اردو شاعری کے ارتقامیں جو نقوش مرتب کیے ہیں وہ قابلِ دید ہیں ۔
عرب و ایران اور ہندوستان کے تجارتی تعلق ،مسلم بادشاہوں کی آمد اور پھر ان کی حکومتوں کے قیام کے بعد یہاں کے مقامی باشندوں اور مسلمانوں کے مشترکہ میل ملاپ ،سماجی،معاشرتی اور لسانی تقاضوں کے سبب ایک نئی زبان کا وجود ہوا جسے ہندی،ہندوی،ہندوستانی،ریختہ،لشکری،کھڑی بولی کانام دیا گیا جوآگے چل کر اردو کہلائی ۔محمود غزنوی کے دور میں مسعود سلمان سے اردو شاعری کا آغاز ہوا جو امیرخسروؔ تک پہونچ کر کافی ترقی کرگئی۔خواجہ نظام الدین اولیا کے خلفا و مریدین ،مسلم صوفیائے کرام ،غیر مسلم سنتوں نام دیو،کبیر گرونانک جیسی بھگتی تحریک کے مبلغین ،شمال و جنوب کے شاعروں اور ادیبوںکی مشترکہ جدو جہد سے اردو شاعری نے اپنادائرہ بہت جلد وسیع کرلیا ۔اردو شاعری کے آغاز اور اس کے ارتقائی عمل میں مسلم و غیر مسلم دونوں نے برابر برابر حصہ لیا ۔اور مسعود سعد سلمان اور خسروؔ نے جس درخت کی تخم ریزی کی تھی اس کی آبیاری میں ان حضرات نے اپنا خونِ جگر لگا کر اسے پروان چڑھایا یہ انھیںحضرات کی کوششوں کا ثمرہ ہے کہ آج جہاں جہاں اردو بولی ،پڑھی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں اردو شاعری موجود ہے۔
مسلمان جب برِّ صغیر ہند و پاک میں داخل ہوئے تو عربی، فارسی اور ترکی بولتے آئے اور جب ان کا اقتدار قائم ہوا تو فارسی سرکاری زبان ٹھہری ۔تاریخ شاہد ہے کہ حاکم قومیں اپنی زبان اور اپنا کلچر ساتھ لاتی ہیںاور محکوم قومیں جن کی تہذیبی و تخلیقی قوتیں مُردہ ہوجاتی ہیں، اُس زبان اور کلچرسے اپنی زندگی میں نئے معنی پیدا کرکے نئے شعوراور احساس کو جنم دیتی ہیں۔محمد بن قاسم سے محمود غزنوی تک اور محمود غزنوی سے بابر کی فتح تک کازمانہ تقریباًآٹھ سوسال کو محیط ہے ۔ مسلمانوں کا کلچر ایک فاتح قوم کا کلچر تھا۔جس میں زندگی کی وسعتوں کو اپنے اندر سمیٹنے کی پوری قوت موجود تھی۔اس کلچر نے جب ہندوستان کے کلچر کو نئے انداز سکھائے اور یہاں کی بولیوں پراپنا اثر ڈالاتوان بولیوں میں سے ایک نئی بولی کاجنم ہوا جو وقت کے تہذیبی ،معاشرتی و لسانی تقاضوں کے سہارے مسلمانوں اور برِّ صغیر کے باشندوں کے درمیان مشترک اظہار و ابلاغ کا ذریعہ بن گئی۔فاتح و مفتوح کے امتزاج سے وجود میں آنے والی اس بولی کو کبھی لشکری تو کبھی ریختہ تو کبھی ہندی، ہندوی اور ہندوستانی دہلوی وغیرہ کا نام دیا گیااور آج اسی کو ’’اردو ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
محمد بن قاسم کے خاصے عرصے کے بعد محمود غزنوی کی مرکزی سلطنت سندھ اور پنجاب تک پھیل گئی ۔کہا جاتا ہے کہ دولت کی ہوس نے اسے اندھا بنا دیا تھا۔ شاید ان کے کردار کی یہ ایک کمزوری ہو مگر وہ بڑے دین دار ،دلدار اور فراخ دل بادشاہ تھے ۔انھوں نے ہندوستان سے تعلقات استوار کرنے کے لیے اپنی سرکاری مہرمیں سنسکرت کے الفاظ کندہ کرائے تھے۔ان کے عہد میں سنسکرت کی بہت سی کتابیں فارسی میں ترجمہ کی گئیں۔ان کے زمانے میں خواجہ مسعود سعدؔ سلمان (۴۳۸ھ -۵۱۵ھ/۱۰۴۶ئ-۱۱۲۱ئ)جیسا قادرالکلام شاعر پیدا ہوا جس نے عربی ،فارسی ،ترکی ،اور ہندوی(اردو)میں شاعری کی اور اپنے پیچھے تین دیوان چھوڑے جو تازی،پارسی اور ہندوی میں ہیں۔انھیں ہندوی کا پہلا شاعر ماناجاتا ہے جو کہ لاہور کے رہنے والے تھے۔جن کے بارے میں امیر خسروؔ نے ’’غرۃ الکمال‘‘ کے دیباچے میں تحریر کیا ہے کہ :
’’پیش ازیںشاہانِ سخن کسے را سہ دیوان نبودہ مگر مراکہ خسرو ممالک کلامے۔مسعود سعد سلمان را اگر ہست اماآں سہ دیوان در عبارت عربی و فارسی و ہندی است و درپارسی مجرد کسے سخن را سہ قسم نکردہ جز من‘‘
(تاریخِ ادبِ اردو:ڈاکٹر جمیل جالبی،ج :۱،ص:۲۳)
امیرخسروؔ کی فارسی مثنوی ’’تغلق نامہ‘‘ میں ایک جملہ’’ہے ہے تیر مارا‘‘ ملتا ہے جو ہندوی زبان کے مخصوص آہنگ کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسعود سعد سلمان کی زبانِ ہندوی سے خسروؔ کون سی زبان مراد لیتے ہیں۔
حافظ محمود شیرانی کے مطابق:’’ اردو کا قدیم نام ہندی یا ہندوی ہے‘‘(پنجاب میں اردوص۲۳)جس سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہونچتی ہے کہ مسعود سعد سلمان نے جس زبان(ہندوی) میں شاعر ی کی ہے وہ ’’اردو ‘‘ ہی ہے۔مسعود سعد سلمان کاہندوی دیوان ناپید ہوچکا ہے۔اگر یہ دست یاب ہوجاتا ہے تو لسانیات سے متعلق بیش تر مسائل خصوصاً اردو زبان کے ارتقائی مراحل کے بہت سارے گم شدہ ابواب روشن ہوجائیں ۔
محمود غزنوی کے بعد جب غوری دورآیاتو سلطان شہاب الدین کی سلطنت کا رقبہ دہلی تک وسیع ہوگیا اوراس نے قطب الدین ایبکؔ کو دہلی کا صوبہ دار مقرر کیا ۔ہندو اور مسلم دونوں قوموں کے تہذیبی ،معاشرتی اور لسانی ملاپ سے جس نئی زبان نے جنم لیا تھااُس نَو مولود زبان کے شعرو ادب میں اس دور میں رفتہ رفتہ ترقی کی شروعات ہوئی ۔خلجی اور تغلق حکومتوں کے دور میں امیر خسروؔ ،ابوالحسن یمین الدین(۱۲۵۳ئ-۱۳۲۵ئ)کی بلندو بالا شخصیت اردو زبان و ادب کی ابتدائی تشکیل میں بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔امیر خسرو ۹۹؍ تصانیف کے مصنف تھے اور بنیادی طور پر فارسی کے بہت بڑے شاعر اور عالم تھے ۔ان کے دوہے ،نظمیں ،انملیاں،مکرنیاں، پہیلیاں،اور لوریاں لسانی اعتبار سے کافی اہمیت کی حامل ہیں۔خسروؔ پہلے ماہرِلسانیات تسلیم کیے جاتے ہیں جنھوں نے ہندوستان کی زبانوںکو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ایک ہندی ،دوسری دہلوی ،جو دوآبہ کے علاقوں میں بولی جاتی تھی اور جس میں خسروؔ نے شعر کہے اور دوہے ،انملیاں، مکرنیاں ،پہیلیاں وغیرہ مدون کی ہیں ۔دراصل یہی زبان آگے چل کر ’’اردو‘‘کے نام سے معنون ہوئی۔آج خسروؔ کا جو کچھ بھی اردو کلام ملتا ہے وہ بعض محققین کے نزدیک مستند نہیں ہے، لیکن یہ بات بہر حال اپنی جگہ مسلم ہے کہ امیرخسروؔ نے اردو میں شاعری کی ہے۔چنانچہ ’’غرۃ الکمال ‘‘ کے دیباچے میں خود خسروؔ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ’’جزوے چند نظم ہندی نذرِ دوستان کردہ است‘‘۔خسروؔ سے پہلے ہندوی کے شاعر کی حیثیت سے مسعود سعد سلمان مشہور تھے۔اس لحاظ سے اردو شاعری کے بنیاد گزاروں میں مسعود سعد سلمان اور امیرخسروؔ خشتِ اوّل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔امیر خسروؔ کے کلام کو دیکھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اب یہ زبان قدیم اُپ بھرنش سے آگے نکل کر اپنی تشکیل کے اک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے اور جس پر کھڑی بولی اور برج بھاشا دونوں اثر انداز ہوئی ہیں ۔
خسروؔ کی شاعری میں یہ انفرادیت ملتی ہے کہ انھوں نے ایک مصرع فارسی اور ایک مصرع اردو کا قلم بند کیا تو کہیں آدھا مصرع فارسی میں میں تو آدھا اردو میں …ذیل میںاس طرح کے کلام کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں ؎
زحالِ مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہوں کاہے لگائے چھتیاں
شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چو عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
حضرت نظام الدین اولیا کی وفات پر خسرو نے جو شعر کہا وہ بھی اسی رنگ و آہنگ کا آئینہ دار ہے
گوری سووے سیج پہ اور مکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے سانج بھئی چوندیس
اردو شاعری کی جس روایت کو مسعود سعد سلمان اور امیرخسرو نے شروع کیا اس کو آگے بڑھانے میں چندمحققین کے خیال میں صوفیاے کرام کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔بل کہ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے نزدیک تو اردو شاعری کا آغاز مذہبی شاعر سے ہی ہوا ہے جو کہ صوفیائے کرام کی رہینِ منت ہے۔
اردو زبان و ادب کے نشوونما سے متعلق ماہرینِ لسانیات کے فراہم کردہ مواد ،اردو زبان کی اوّلین تخلیقات اور بزرگانِ دین کے ملفوظات کی روشنی میں یہ بات قطعیت کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اردو بان کے فروغ اوراس کے نشوونما میں صوفیاے کرام نے نمایاں کردار اداکیا ہے ۔یہ بے لوث اور مخلص لوگ بندگانِ خدا تک خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے بے تاب تھے ۔وہ لوگوں کے دروازوں ہی پر نہیں ان کے دلوں پر بھی دستک دینا چاہتے تھے ۔ظاہر ہے اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنا پیغام عوام تک خود ان کی زبان میں پہنچائیں۔ چنانچہ صوفیاے کرام نے خواص کی ادبی زبان کے بجائے عوام میںرائج زبان کو اپنی پیغام رسانی کا وسیلۂ اظہار بنایا اور انہیں کی بولی میں تعلیم و تلقین فرمائی ۔صوفیاے کرام جس خطے میں جاتے وہاں کی زبان سیکھ کر اس خطہ کے لوگوں تک انہیں کی زبان میں اپنا پیغام پہنچاتے۔ اس طرح انہوں نے عوامی زبان کے دائرے کو وسیع کیا اور اپنی ضرورت کے مطابق نئے نئے الفاظ استعما ل کرکے اس زبان کے ذخیرۂ الفاظ میں قابلِ قدر اضافہ کیا ۔بابائے اردو مولوی عبدالحق صوفیائے کرام کو اردو کا محسن خیال کرتے ہیں ۔
اردو زبان، اردو شاعری اوراردو نثر نگاری کو بنیاد فراہم کرنے والے اور اس کی اوّلین روایتوں کی تشکیل میں نمایا ں کردار اداکرنے والے صوفیاے کرام میںشیخ فریدالدین مسعود گنج شکر(۱۱۷۳ئ/۱۲۶۵ئ)،شیخ باجن(۱۳۸۸ئ/۱۵۰۶ئ)،شیخ حمید الدین ناگوری(۱۱۹۳ئ/۱۲۷۴ئ)، امیرخسرو(۱۲۵۳ئ-۱۳۲۵ئ)،شیخ شرف الدین بوعلی شاہ قلندر پانی پتی(م۱۳۲۳ئ)،شیخ شرف الدین یحییٰ منیری(م۱۳۸۰ئ)،شیخ عبدالقدوس گنگوہی (م۱۵۳۸ئ)وغیرہ کے اسماے گرامی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ۔ان میں زیادہ تر حضرت نظام الدین اولیا محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدین،خلفا اور متوسلین ہیں ۔ان صوفیائے کرام نے اردو نثر کے ساتھ ساتھ اردو شاعری کے عروج و ارتقا میں اپنا خونِ جگر لگایا۔چنانچہ بابا فریدالدین مسعود گنج شکر کے کئی دوہے اور ریختے ملتے ہیں:مثلاً
سائیں سیوت گل گئی ماس نرھیا دیہہ
تب لگ سائیں سیوساں جب لگ ہوسوں کیہہ
راول دیول ہمے نہ جائیے
پھاٹا پہنہ روکھا کھائیے
ہم دروشنہ اہے ریت
پانی لوریں اور مسیت
(تاریخِ اردو ادب: ڈاکٹر جمیل جالبی، ج:۱،ص:۳۷)
علاوہ ازیں دیگر صوفیائے کرام کے دوہے اور ریختے جو خالص ہندوی یعنی اردو میں ہیں ذیل میں ملاحظہ ہوں ؎
بوعلی شاہ قلندر پانی پتی:
ساھرے نہ مانیو پیو کہ نہیں تھانو
کُنہہ نہ بوجھی بات اوی دھنی سہاگن نانو
سجن سکارے جائیں گے اور نین مریں گے روئے
بدھنا ایسی رین کر بھور کدھی نہ ہوئے
شیخ شرف الدین یحییٰ منیری:
کالا ہنسا نہ ملا بسے سمندر تیر
پنکھ پسارے یکہ ہرے ارمل کرے سریر
درد رہے نہ پیڑ
شرف حرف مائل کہیں درد کچھ نہ بسائے
گرد چھوئیں دربار کی سودرد دور ہوجائے
شیخ عبدالقدوس گنگوہی:
جگ بھایا چھوڑ کر ہوں تُج جوگن ہوں
باج پیاری ہے سکھی ایکو جگ نہ لئیوں
جے پیئو سیج تو نیند نہلیں پردیس تو یوں
برہ برودھی کامنی نا سکھ یوں نہ یوں
جدھر دیکھوں ہے سکھی دیکھوں اور نکوئے
دیکھا بوجہہ بچار مَنہہ سبھی آپیں سوئے
اردو شاعری کے ارتقا میں جہاں ایک طرف صوفیائے کرام نے کوششیں کیں تو وہیں دوسری طرف غیر مسلم سنتوں نامدیوؔ(۱۲۷۰ئ/۱۳۵۰ئ)،کبیرؔ داس (م۱۵۱۸ئ)اور گرونانکؔ(۱۴۶۹ئ/۱۵۳۸ئ) بھگتی تعلیمات کی اشاعت میں راجستھانی ،برج بھاشا اور پنجابی زبانوں کا استعما ل کررہے تھے ،جن پر عربی،فارسی ،ترکی اور سنسکرت کے الفاظ بھی نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔ان سنتوں نے بھگتی تحریک کو عوام و خواص تک پہنچانے کے لیے شاعری کو وسیلۂ تبلیغ بنا تے ہوئے دوہے،راگ،راگنی وغیرہ قلم بند کیں ۔
نام دیو بنیادی طور پر مراٹھی کاشاعر تھالیکن ’’گرو گرنتھ صاحب)) میں اس کا جو کلام ملتا ہے وہ ہندوی یعنی اردو کے آہنگ میں مکمل طور سے ڈھلا ہوا ہے ،دو شعر ملاحظہ ہوں ؎
مائے نہ ہوتی باپ نہ ہوتا کرم نہ ہوتی کائیا
ہم نہیں ہوتے تم نہیں ہوتے کون کہاں تے آئیا
چند نہ ہوتا سور نہ ہوتا پانی پون ملایا
شاست نہ ہوتا بید نہ ہوتا کرم کہاں تے آیا
بھگتی تحریک کے سب سے بڑے اور مشہور ترین شاعر کبیرؔ ہیں جو بنارس کے رہنے والے اور ذات کے جولاہے تھے۔وہ توحید کے علم بردار تھے ،بت پرستی کی شدید مخالفت ان کا ایمان تھا ۔وہ کہتے تھے’’ جسے خدا مل گیا اسے سب کچھ مل گیا ‘‘۔اپنے انھیں خیالات کی تبلیغ کے لیے انھوں نے شاعری کا سہارا لیا ،اور اردو شاعری کو عروج بخشا۔انھوں نے صنفِ دوہا کو ہی زیادہ تر استعمال کیا یہی وجہ ہے کہ جب دوہا کا ذکر نکلتا ہے تو ذہن خوبخود کبیرؔ کی طرف چلا جاتا ہے ۔’’بیجک‘‘ اور ’’بانی‘‘ ان کے مجموعۂ کلام ہیں ،جن سے چند دوہے ذیل میں ملاحظہ ہوں ؎
کل کرے سو آج کر ، اج کرے سو اب
پل میں پرلے ہوئے گی پھیر کرے گا کب
کال کرے سو آج کر ، آج ہے تیرے ہاتھ
کال کال تو کیا کرے ، کال ہے کال کے ساتھ
کبیرؔ سریر سرائے ہے کیا سوئے سکھ چین
سوانس نگارا باج کا باجت ہے دن رین
کبیرؔ نے عوامی زبان،لب ولہجے ،آہنگ اور ترنم کے ساتھ آسان اور سلیس اسلوب میں اپنے نظریات کو دوہوں میں قلم بند کیا ہے۔انھوں نے عوامی زبان کو اسی انداز میں استعمال کیاجیسی وہ بولی جارہی تھی ،فارسی،عربی اور ترکی کے بیش تر الفاظ بھی ان کے دوہوں میں ملتے ہیں۔
علاوہ ازیں کبیرؔ ہی کے ایک پیروکار گرونانک ؔ نے بھی اردو شاعری کے فروغ میں اچھا خاصا حصہ لیا۔ڈاکٹر جمیل جالبی کے مطابق:
’’گرونانک (۱۴۶۹ئ-۱۵۳۸ئ)اور ان کے جانشین بنیادی طور پر کبیرؔ ہی کے مسلک کے پیرو ہیں۔کبیرؔ کی فکر نے گرونانک کے فکر اور خیال کو جنم دیا جو رفتہ رفتہ ایک نئے مذہب کی شکل میں ڈھل گئے…گرونانک نے کبیرؔ کو اپنا پیشوا کہا ہے ۔۱۴۹۶ء میں گرونانک کی کبیر سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔شیخ عبدالقدوس گنگوہی نے،جن کا سالِ وفات وہی ہے جو گرونانک کاہے،اپنے خطوط میں گرونانک کا ایک دوہا لکھا ہے:
موبو پیاس نانک لہو پانی
پیو سو رانڈ سہاگن نانوں‘‘
(تاریخِ اردو ادب:ڈاکٹر جمیل جالبی،ج:۱، ص:۴۷)
گرونانک کے کلام میں پنجابی کے ساتھ کھڑی بولی کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔گرو گرنتھ صاحب میں عربی،فارسی الفاظ بھی بکثرت موجود ہیں اور اس میں اردو زبان کی جو شکل و صورت ملتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے نظریات کی تبلیغ و اشاعت کے لیے اس زبان کا سہارا بھی لیا ہے۔گرو گرنتھ صاحب سے گرونانک کے اردو کلام کی مثالیں ذیل میں ملاحظہ ہوں :
پیر پیکامبر (پیغامبر) اور سہید (شہید)
سیکھ مسائک (شیخ مشائخ) کاجی (قاضی) ملّاں
در درویس رسید (درویش رشید)
برکت تن کو اگلی پڑھدے رھن دروٗد
۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
مِہر مسیت (مسجد) سدک (صدق مصلّا)
ھک ھلال (حق حلال) کران (قرآن)
سرم (شرم) سنت سیل روجہ (روزہ) ھوھو مسلمان
کرنی کابا (کعبہ) سچ پیر کلما (کلمہ) کرم نواج (نماز)
تسبیہہ (تسبیح) ساتس بھاوسی نانک رکھے لاج
گرونانک کے کلام میں عربی ،فارسی الفاظ کو ہندوی سانچے اور تلفظ میں جس انداز سے استعمال کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی زبان کی ساخت اور لب و لہجے پر اردو زبان کا گہرا اثر تھا۔آپ نے بھی دوہوں کے ذریعے اردو شاعری کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔
اردو شاعری کے فروغ میں جہاں ایک طرف شمالی ہند کے مسلم صوفیائے کرا م اور غیر مسلم سنتوں نے حصہ لیا تو وہیں دوسری طرف جنوبی ہند میں بھی اردو شاعری رفتہ رفتہ پروان چڑھ رہی تھی ۔دراصل جب تغلق نے دیو گیر(دولت آباد) کو اپنا دارالخلافہ بنایا تو اس کے ساتھ کئی ہزار لوگوں نے نقل مکانی کرکے جنوبی ہند کو آباد کیا جن میں صوفیہ،علما،صلحا،ادبا،شعرا،اطباوغیرہ بھی شامل تھے ۔جنھوں نے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے اپنی زبان کا استعمال تو کیا لیکن جنوبی ہند کے لوگوں سے میل ملاپ کے نتیجے میں دکنی اردو کا آغاز ہوا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شمالی ہند کی بہ نسبت جنوب میں اردو شاعر نے بے پناہ ترقی کی ۔بہمنی اور عادل شاہی سلطنت کے بعد جب قطب شاہی سلطنت کا عروج و اقبال ہوا تو اس کے بادشاہوں نے شعر و ادب کی نہ صرف سرپرستی کی بل کہ وہ خود بھی دکنی اردو کے باکمال شعرا کہلائے، چنانچہ اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر قطب شاہی سلطنت کا ایک فرما ں روا محمد قلی قطب شاہ معانی (988ھ تا1020ھ/1580ء تا1611ئ)ہی کہلاتا ہے۔جنوبی ہند میں خواجہ بندہ نواز گیسو دراز،فخر دین نظامی،اشرف بیابانی،میراں جی شمس العشاق،قریشی،لطفی،مشتاق،وجہی،غواصی،ابن نشاطی،فائزؔ،نصرتیؔ،ولیؔ اور سراجؔ وغیرہ نے اردو شاعری کے ارتقامیں جو نقوش مرتب کیے ہیں وہ قابلِ دید ہیں ۔
عرب و ایران اور ہندوستان کے تجارتی تعلق ،مسلم بادشاہوں کی آمد اور پھر ان کی حکومتوں کے قیام کے بعد یہاں کے مقامی باشندوں اور مسلمانوں کے مشترکہ میل ملاپ ،سماجی،معاشرتی اور لسانی تقاضوں کے سبب ایک نئی زبان کا وجود ہوا جسے ہندی،ہندوی،ہندوستانی،ریختہ،لشکری،کھڑی بولی کانام دیا گیا جوآگے چل کر اردو کہلائی ۔محمود غزنوی کے دور میں مسعود سلمان سے اردو شاعری کا آغاز ہوا جو امیرخسروؔ تک پہونچ کر کافی ترقی کرگئی۔خواجہ نظام الدین اولیا کے خلفا و مریدین ،مسلم صوفیائے کرام ،غیر مسلم سنتوں نام دیو،کبیر گرونانک جیسی بھگتی تحریک کے مبلغین ،شمال و جنوب کے شاعروں اور ادیبوںکی مشترکہ جدو جہد سے اردو شاعری نے اپنادائرہ بہت جلد وسیع کرلیا ۔اردو شاعری کے آغاز اور اس کے ارتقائی عمل میں مسلم و غیر مسلم دونوں نے برابر برابر حصہ لیا ۔اور مسعود سعد سلمان اور خسروؔ نے جس درخت کی تخم ریزی کی تھی اس کی آبیاری میں ان حضرات نے اپنا خونِ جگر لگا کر اسے پروان چڑھایا یہ انھیںحضرات کی کوششوں کا ثمرہ ہے کہ آج جہاں جہاں اردو بولی ،پڑھی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں اردو شاعری موجود ہے۔
Tuesday, April 9, 2013
قاتل ہی فاتحہ خواں ہیں ہمارے مزارپر
تحریر۔۔۔۔۔میم ضادفضلی
اس سال2013میں تقریبا10ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں،جن میں سے تین چھوٹی ریاستوں میں انتخابات کاعمل اپنے نتائج کیساتھ مکمل ہوچکاہے،باقیماندہ ریاستوں میں بھی اوائل اکتوبر تک انتخابات کاعمل مکمل ہوناہے۔اس سال انجام پذیرہونے والے انتخابات کے نتائج جہاںآئندہ 2014 میں ہونے والے عام انتخابات میںیوپی اے،این ڈی اے اوردیگرغیراتحادی جماعتوں کامستقبل بھی طے کریں گے، وہیں کانگر یس کی غریب دشمن پالیسیوں کے نتیجے میں ٹوٹ چکے ملک کے 80فیصدباشندوںیعنی غریبوں اور مزدوروں کو کانگریس سے اپناحساب کتاب برابر کرنے کاموقع بھی فراہم کریں گے۔ بہرحال ہمیںآج ہندوستان کے اس طبقہ کے حوالے سے گفتگوکرنی ہے جسے نام نہادسیکولر جماعتیں اپنازرخریدغلام تصورکرتی ہیں اورانہیں اطمینان رہتاہے کہ ایک عددمخلص قائداوررہنماسے محروم مسلم طبقہ محض ایک فرقہ ورانہ فسادکے خوف سے ہی سہم جائے گااوربھیڑکے ریوڑکی طرح صف بستہ ہوکران کی جھولی میں اپنے ووٹ ڈالنے پرمجبورہوجائے گا،آزادی کے بعدملک بھرمیں لگ بھگ انہیں خطوط پرکانگریس بشمول دیگر سیکولر جما عتیں کاربندرہی ہیں۔زیرنظرمضمون میں کانگریس پارٹی کاجائزہ لیاجارہاہے دیگرسیاسی جماعتوں کی حیثیت علاقائی نوعیت کی ہیں،جبکہ کچھ سیاسی جماعتوں کے شعبدہ بازسربراہوں کے فریب کاگھڑاپھوٹ چکاہے اورانکی چال بازیوں کوخصوصامسلم رائے دہندگان نے متعددبارمواقع فراہم کرکے بحسن وخوبی سمجھ لیاہے۔کانگریس کادعویٰ ہیکہ اسکی حیثیت ایک قومی پارٹی کی ہے،لہذامناسب معلوم ہوتاہے کہ آج کی تحریرمیں صرف کانگریس پارٹی کی بات کی جائے،تاکہ قارئین کوہماری معروضات کے سمجھنے میں کسی قسم کاجھول محسوس نہ ہو اورمضمون کے گڈمڈ ہونے کااندیشہ بھی دامن گیرنہ ہو۔قارئین!ہم 47سے مسلسل دیکھتے آرہے ہیں کہ اقلیتوں کے تعلق سے کانگریس پارٹی نے ہمیشہ دوہراپیمانہ اختیارکیا ہے،مسلمانوں کی ترقی اورفلاح وبہبودکے معاملے میں کانگریس ہمیشہ قول وعمل کے تضاد کا شکاررہی ہے،چاہے وہ صوبائی یاریاستی ایوانوں میں اقلیتوں کومناسب نمائندگی دینے کامسئلہ ہویاسرکاری ادار و ں میں ان کیلئے روزگارکی فراہمی کا۔یہ لٹی پٹی قوم ہرمحاذپرنظراندازکی گئی اوراس کی گذارشوں اور مطالبو ں کو پا یے حقارت سے ٹھکرایاجاتارہا۔کانگریس پارٹی میں فرقہ پرست عناصرکاغلبہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،کانگریس کوجہاں کوئی سیکولرلیڈرنہیں ملتاتوبی جے پی سے امپورٹ کرلیاجاتاہے ،مثال کے طورپرآپ شنکرسنگھ واگھیلاکی تاریخ پڑھ سکتے ہیں۔مجھے یادآتاہے 30جنو ری 1948کاوہ بھیانک واقعہ جس کے نتیجے میں بابائے قوم مہاتماگاندھی کوموت کی نیندسلادیاگیااورجس دہشت گردی نے چشم زدن میں پورے ملک کو یتیم کردیاتھا، میں بتانایہ چاہ رہاہوں کہ اگرایک طرف بابائے قوم مہاتماگاندھی کوقتل کرنے کیلئے آرایس ایس کی ناپاک ذہنیت لائحہ عمل مرتب کررہی تھی تودوسری جانب خودکانگریس میں شامل کچھ انسانیت دشمن عنا صراس منصوبہ کوپایہ تکمیل تک پہنچانے میں حائل رکاوٹیں دورکرنے کافریضہ اداکررہے تھے۔ بالاٰخر مہا تما گا ند ھی قتل کردئے گئے،اس کے بعدبھی کانگریس میں شامل فرقہ پرست عناصرکی نفرت کی آگ سرد نہیں ہوئی، جواہر لال نہروسے وابستہ کانگریسی گاندھی کے قاتلوں کو عبرتنا ک سزادلانے کی تگ ودومیں لگے تھے توکانگریس میں ہی شامل دوسراطبقہ قاتلوں کوبچانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا ۔یہ تورہی ایڈین نیشنل کانگریس میں فرقہ پرست عناصرکے غلبہ کی باتیں۔اب آئیے سرسری طورپرکانگریس پارٹی کے دعوائے مساوات اورکانگریس کاہاتھ عام آدمی کے ساتھ جیسے نعروں کی حقیقت کاپتہ لگائیں کہ اس نعرے میں کچھ سچائی بھی ہے یایہ غریبوں کوجذباتی طورسے بلیک میل کرنے کااجارہ داروں اورسرمایہ کاروں کامنصوبہ بندفریب ہے۔اس سلسلے میں مناسب معلوم ہوتاہے کہ سب سے پہلے کانگریس کی تشکیل اوروجودکے ابتدائی حالات کوجاناجائے ،تاکہ کانگریس کے عام آدمی کی پارٹی ہونے کی حقیقت بآسانی سمجھ میںآجائے۔قارئین!کانگریس کی تشکیل 1885میں انگریزی داں ہندوستانیوں کے کلب کے طورپرہوئی تھی۔کلب کی رکنیت اعلی تعلیم یافتہ رئیسوں زمینداروں اورانگریزی حکومت میں شامل سینئرافسروں تک ہی محدودتھی۔اس دعویٰ کواحمقانہ تاویل ہی کہاجائے گاکہ کانگریس پارٹی میں امیروغریب اوراعلیٰ وادنیٰ کوبلاامتیازمقام حاصل تھا۔کلب والے ماحول میں غریبوں کی شمولیت کی باتیں اپنے آپ میں خودہی ایک مذاق ہے۔یہ تصورسے بھی بالاترہے کہ جس تنظیم کی تشکیل رؤسائے وقت کی تفریح طبع کیلئے ہوئی ہو۔وہاں غریبوں مزدوروں کوکھڑاہونے کی اجازت رہی ہوگی؟جبکہ تاریخی صداقت یہ ہے کہ اس وقت جاگیردارنہ اورزمیندارانہ ماحول میں کمزوروں،بے بسو ں اور مفلوک الحال انسانوں کو پالتو جا نو رو ں سے بھی ہیچ سمجھاجاتاتھا۔یہاں ہمارے پاس ان حقائق کاتاریخی ثبوت پیش کرنے کی گنجائش نہیں ہے،ہم توصرف اس پہلوپرروشنی ڈالناضروری سمجھتے ہیں جوہماری آج کی تحریر کا مقصدہے۔میں نے عرض کیاہے کہ کانگریس کاقیام امرائے ہندکی تفریح طبع کیلئے ایک کلب کی شکل میں ہوا تھا، کلب کے ماحول میں غریبوں کے داخلے کے دعوے کوتاریخ کے ساتھ عصمت دری کے علاوہ اورکہابھی کیا جاسکتاہے۔اگرقسمت سے کسی ایک آدھ کواس کلب میں شرکت کا زریں موقع مل گیاہوتویہ ممکن ہے،مگرمجموعی طورسے اس جماعت پرغلبہ امرائے ہندکاہی رہاہے۔ امیروں کوغریبوں مزدوروں سے ہمیشہ نفرت رہی ہے ، ہمیشہ دھنوانوں نے غریبوں کی ہڈیوں کاسرمہ بناکراپنی آنکھوں کوزینت بخشی ہے۔
آج مسلمانوں کی تباہی وبربادی اورپسماندگی کاجورونارویاجارہاہے اورمسلمانوں کی ترقی کیلئے بڑے شہروں کے فائیواسٹارہوٹلوں میں نام نہاد ملی رہنماؤں کے ذریعہ جومجلسیںآراستہ کی جارہی ہیں اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ یہ ساری مٹنگیں خودکانگریس یاکسی نہ کسی سیکولرجماعت کی عنایتوں کے طفیل منعقد ہوتی ہیں۔اس میں شرکت کرنے والے عناصرکرایے پربلائے گئے ہوتے ہیں اورمیٹنگوں کے کنوینروہ لوگ ہوتے ہیں جوکئی پشتوں سے مسلم اقلیتوں کیلئے دیے جانے والے فنڈکواپناموروثی مال سمجھے بیٹھے ہیں۔اگرآپ سروے کریں تو اندازہ ہوگاکہ ہندوستان کے 30کروڑمسلمانوں کی فلاح وبہبودکیلئے دی جانے والی خطیررقم مصیبت زدہ ،بے بس اورانتہائی مفلوک الحال غریبوں کی ترقی اوربھلائی میں استعمال ہونے کی بجائے چندجاہ پرست صاحب جبہ ودستارکی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ مختصریہ کہ ملک کی مسلم اقلیتوں کے 98فیصدآبادی کی پسماندگی دورکرنے کیلئے دی جانے والی مرکزکی رقم پرصرف ان 2فیصدسفیدپوش مسلم نماایمان فروشوں کی اجارہ داری ہے جن کے آباء واجدادکل غلامی کے عبرتناک دورمیں بھی انگریزی آقاؤں کی مہربانیوں سے لطف اندوزہورہے تھے اورآزادی کے بعدملک میں سوراج کے قیام کے بعدبھی اقلیتوں کی فلاح وترقی سے متعلق تمام اسکیمیں اوررقوم انہیں کی مٹھیوں میں قیدہیں۔بعدکے ادوارمیں چنددوسرے مسلم خاندانوں کو بھی لٹیروں کے اس قافلہ میں شامل ہونے کاموقع ملا،مگران کی تعدادآٹے میں نمک برابرہے۔ اگرآپ عقیدت اوراندھی اردادت مندی کی عینک اتار کر حا لات کاجائزہ لیں تواندازہ ہوگاکہ ملک بھرمیں جن خاندانوں کے چشم وچراغ آج ہندوستان کے مسلما نوں کی بے سروسامانی اورپسماندگی کارونارورہے ہیں انہیں اوران کے اجدادکوشاہانہ اورپرتعیش زندگی ہمیشہ حاصل رہی ہے۔یعنی حالات کی ستم ظریفی کارخ کبھی ان کے گھرکی جانب نہیں ہوا۔تقسیم وطن کی قیامت خیزی میں بھی وہ مامون ومحفوظ رہے اور47سے لے کرآج تک ملک بھرمیں برپاکئے جانے والے فرقہ ورانہ فسادات میں بھی مسلمانوں کایہ طبقہ اپنی تمام عیش وعشرت کیساتھ حکومت کی پناہ میں بے خوف ومامون رہااورمسلمانوں پرٹوٹنے والی ہرقیامت کے بعدمنصوبہ بندطریقے سے انہیں مظلو مو ں کی لاشوں پر سیاست کرنے کاموقع فراہم کیاگیا۔ یہ ساراکھیل نام نہادسیکولرجماعت یعنی کانگریس کے ذریعہ کئی دہائی سے کھیلاجارہاہے۔کانگریس پارٹی میں شامل مسلم لیڈروں کوسب کچھ دیکھتے ہوئے خاموش رہنے کی ہدایت ہے۔یعنی انہیں اس سے قطعی مطلب نہیں ہوناچاہئے کہ ان کی پارٹی میں موجود فرقہ پرست عناصر کیا کررہے ہیں۔اگرانہیں شاہانہ ٹھاٹ باٹ اورعیش وعشرت سے مالامال زندگی کی ضمانت چاہئے تووہ بس خاموش رہیں اورتما م فرقہ ورانہ فسادات کے بعد ایک ایجنٹ کی طرح پارٹی کی کالی شکل پرملع سازی کاکرتب د کھاتے ہوئے مسلمانوں کوالوبناتے رہیں۔اگرکسی نے فرقہ پرستوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جرأت کی تواسے عبدالرحمن انتولے کی طرح پارٹی سے ہمیشہ کیلئے فارغ کردیاجاتاہے۔عبدالرحمن انتولے کو سادھوی پرگیہ کی دہشت گردی کے انکشافات کے بعدزبان کھولنے کی سزافوراً دیدی گئی تھی۔
قارئین !میں نے اوپرعرض کیاہے کہ ملک کی اقلیتوں کی فلاح وبہبودکیلئے مرتب کردہ تمام اسکیموں پر پورے ہندوستان سے جمع کرکے کانگریس نے محض چندمسلم خاندانوں کامکمل تسلط قائم کردیاہے، تاکہ ملک بھرکے مسلما نوں کی بہتری کیلئے کسی بھی قسم کے اقدامات کی عملی کوشش نہ کرنی پڑے،بلکہ انہیں چندخاندانوں کوبہرہ مند کر کے پورے ملک کے مسلمانوں کی واہ واہی بٹورلی جائے۔اگرکانگریس پارٹی اپنے قول وعمل میں تضادکاشکارنہ ہوتی توان کے خاندانوں کے چشم وچراغ کے آگے ایسے مسلم لیڈروں کی تلاش بھی کی جاتی جوخاندانی اعتبا ر سے چاندی کاکٹورامنہہ میں لیکرپیدانہ ہوئے ہوں،بلکہ انہوں نے اپنی قوم کودرپیش مصائب وآلام کابذات خودسامناکیاہواورقوم کی بھلائی وخیرخواہی کے نیک جذبہ نے انہیں عملی طورپرسرگرم ہونے کیلئے بے چین وبے قرارکررکھاہو۔مگرملت اسلامیہ ہندکاالمیہ یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہمیشہ غربت وافلاس کا سا ما ن رہی ہے۔بادشاہوں اورنوابوں کے دورمیں بھی مٹھی بھرزمین داروں نے غریب ہندوستانی مسلما نو ں کا لہو اپنے لئے حلال کررکھاتھااورآزادی کے بعددونوں طرف انہیں مٹھی بھرخاندانوں کے ہاتھوں میں کروڑوں مسلما نو ں کی تقدیرتھمادی گئی۔تقسیم شدہ ہندوستان کے دونوں جانب دیکھ لیں اگراس کنبہ کے کچھ فردہندوستانی سیاست میں سرگرم رہے تواسی خاندان کے کچھ شعبدہ بازوں نے سرحدپارجاکرسیاسی دکانیںآراستہ کرلیں اور دنیاکی تما م ترقیات کوصرف اپنے لئے فرض کرکے بیٹھ گئے۔ہم کوشش کریں گے کہ ان حقائق کومدلل طریقے سے آپ کے سامنے رکھ سکیں جس سے بات ہندوستان کے بھولے بھالے مسلمانوں کی سمجھ میںآجائے کہ کس طرح وہ اس وقت کانگریسی دلالوں کے چنگل پھنسے ہیں اورکس کس طرح انہیں خریدااوربیچاجارہاہے۔ہم اپنی مقدور بھر کوشش یہ بھی رہے گی کہ چھان بین کرکے ان خاندانوں کے چہروں کوبھی بے نقاب کیاجائے جنہوں نے مسلمانوں کی فلاح سے متعلق منصوبوں کوسرکاری ٹھیکہ کے طورپرحاصل کررکھاہے۔
Sunday, January 13, 2013
پہلے اپنے گھرکی خبرلیجے!
خاتون کی آبروریزی پرسیاسی روٹی سینک رہا بایاں محاذخودسے ہی بے خبر
میم ضادفضلی
ابھی ابھی دارالحکومت دہلی میں خواتین کی آبرومحفوظ نہیں ہے۔گزشتہ ایک ماہ سے عورتوں کے تحفظ کے موضوع پراحتجاج کاطوفان اٹھاہواہے جس میں روزکوئی نہ کوئی آبروریزی کی نئی واردات غم وغصے کی لہرکواورتیزکردیتی ہے۔ دہلی میں ایک متاثرہ لڑکی کے حق میں شروع کی گئی اس تحریک کا آغازنہ صرف بائیں بازوکی طلبا تنظیموں کی تحریک پر ہوا بلکہ کئی ترقی پسندفکروں کے حامل کئی مقالہ نگاروں نے لکھ پڑھ کر اس کا کریڈٹ بھی لیا کہ بایاں بازوتنہاایسا مکتبہ فکرہے جہاں کسی بھی ظلم جوراورناانصافی کے خلاف مظاہرے اوراحتجاج کی قیادت کی بھرپورصلاحیت موجودہے۔ تحریکیں چھیڑنے کی یہ بات اپنی جگہ لیکن کیا خواتین کی بالادستی کی دہائی کمیونزم نظریات اوراشتراکیت نواز لوگ جودہلی میں دے رہے ہیں کیاان کے نظریات کی ترجمانی کرنے والے دور دراز ہندوستان میں آباد انقلابی ان کی بات سے کوئی اتفاق رکھتے ہیں؟ زمینی حقائق تویہی ہیں کہ کبھی مادیت پسندانہ نظام اورآمریت کے خلاف شروع ہونے والاانقلاب آج خودسیکڑوں قسم کے استحصال کی لامتناہی داستان بن کر رہ گیا ہے۔ جس میں صنف نازک کے جسم کا استحصال سب سے اہم ہے۔ کچھ واقعات کو جوڑ کر دیکھنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف نکسلی تحریک فری سیکس کے پھندے میں پھنستی جا رہی ہے، بلکہ قبائلی علاقوں میں لڑکیوں کے استحصال کے معاملوں میں بھی نکسلی اور ماؤنواز انتہاپسندشامل پائے جا رہے ہیں۔
واقعہ نومبر 2012 کا ہے، چھتیس گڑھ کے بیجا پور ضلع کی پولس نے مدیڑ تھانہ علاقہ میں 11 اور 12 سال کی دو ایسی نابالغ لڑکیوں کا معاملہ درج کیا، جن کے ساتھ نکسلیوں نے جنسی درندگی کاننگارقص کیاتھا۔ دونوں لڑکیوں نے نکسلی رکن کوڑیم گوجا، ناگیش اور شیواجی پر جسمانی استحصال کا الزام عائدکیا تھا۔ یہ کم سن بچیاں پولس کو اس وقت دستیاب ہوئیں جب ضلع پولس فورس اور مرکزی ریزرو پولس فورس (سی آر پی ایف) کی مشترکہ ٹیم مدیڑ علاقے میں گشت اورتفتیشی مہم کے لئے روانہ ہوئی تھی۔گشت کے دوران گاؤں سے متصل جنگل میں پولس ٹیم کویہ دونوں نابالغ لڑکیاں ملیں۔ پولس کے ذریعہ تفتیش کے دوران لڑکیوں نے بتایا کہ نکسلی کوڑیم گوجا اور اس کے ساتھی انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے اور جنگل میں کوڑیم گوجا، ناگیش اور شیواجی نے جبرا ان کی آبرو کو تار تار کیاہے۔دونوں لڑکیوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کے جسمانی استحصال کا سلسلہ کافی عرصے سے چل رہا تھا۔ نکسلی انہیں گاؤں آ کر لے جاتے ہیں۔ ان سے کام کرواتے ہیں اور ڈرا دھمکا کران سے جنسی تعلقات بناتے ہیں۔ خاندان والوں کے منع کرنے پر انہیں جان سے مار ڈالنے یا گاؤں سے نکال دینے کی دھمکی دیتے ہیں۔ لڑکیوں نے بتایا کہ وہ اپنے گاؤں واپس نہیں جانا چاہتی ہیں اور وہ کبھی اسکول نہیں گئی ہیں، اب آشرم میں رہ کر پڑھنا چاہتی ہیں۔ ضلع کے پولیس سپریٹنڈنٹ پرشانت اگروال کہتے ہیں کہ لڑکیوں کی طرف سے اس کی اطلاع دینے کے بعد پولیس کی ٹیم نے انہیں قدرے محفوظ بیجا پور پہنچایا اور ان کی رپورٹ پر دو نومبر کو نکسلیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ دونوں لڑکیوں کی طبی تفتیش میں ان کے جسمانی استحصال کی تصدیق ہوئی ہے۔ ضلع پولس اہلکار نے بتایا کہ پوچھ تاچھ کے دوران لڑکیوں نے اطلاع دی ہے کہ ان جیسی اور بھی کئی لڑکیاں ہیں جنہیں گاؤں سے اغواکرکے نکسلی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور ان کا جسمانی استحصال کرتے ہیں۔ لڑکیوں کے والدین کی طرف سے اس کی مخالفت کرنے پر انہیں گاؤں سے باہر نکال دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ نکسلیوں نے دیہی باشندوں کو لڑکیوں کو پڑھانے سے منع کیا ہوا ہے۔ فی الحال پولس دونوں لڑکیوں کی بازآبادکاری اور تعلیم کیلئے مناسب انتظامات کر رہی ہے۔معصوم لڑکیوں کے جنسی استحصال کی یہ حقیقت اس وقت سامنے آئی جب پولس نے انہیں پکڑا۔ چھتیس گڑھ کے نکسلی علاقوں کی حقیقت یہ ہے کہ نکسل علاقوں میں قبائلیوں کی بیٹیاں نہیں پڑھ پا رہی ہیں۔ گھروں میں قید ان ننھی جانوں پر نکسلیوں کا قہرمسلسل جاری ہے۔ نکسلی نہ صرف ان کا جنسی استحصال کر رہے ہیں بلکہ ان لڑکیوں کا استعمال نکسلی علاقے میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو پھنسانے کے لئے بھی کر رہے ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ کو موصول اطلاعات کے مطابق نکسل دہشت گرد12سے16سال کی لڑکیوں سکیورٹی اہلکاروں کو پھنسانے کیلئے تربیت دے رہے ہیں۔ وہیں نکسل لیڈر ان لڑکیوں کا جنسی استحصال بھی کر رہے ہیں۔ لڑکیوں کو نہیں بھیجنے والے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نکسلی باری سے اپنی بھرتیوں میں لڑکوں کے علاوہ ’بال سنگم‘ میں لڑکیوں کو بھی مسلح تربیت دے رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق گونڈی زبان میں برآمد کچھ کاغذات کے حوالے سے موصولہ معلومات سے یہ واضح ہوا ہے کہ باغیوں نے کچھ لڑکیوں کو خاص طور پر تربیت دی ہے تاکہ وقت پر وہ سکیورٹی اہلکاروں کو ان کے ہی جال میں پھنسا سکیں۔
غریب قبائلی لڑکیوں کے جنسی استحصال کی رپورٹیں پہلے جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کی خاتون نکسل رہنماؤں نے دی تھیں۔ اب چھتیس گڑھ کے بیہڑ میں بھی ’سوئٹ پوائزن‘ کے نام سے کچھ لڑکیوں کی ٹیم تیار کی گئی ہے۔ سیاسی طور پر انتہائی حساس اس ایشو پر فی الحال کوئی بھی کھل کربولنے کو تیار نہیں ہے لیکن نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تمام رہنما اس کااعتراف کرتے ہیں کہ غریب لڑکیوں کے جسم کو نکسلی دہشت گرد طویل عرصے سے بھنبھور رہے ہیں۔ مقامی ضلع پنچایت اور گاؤں کی سطح پر جنسی استحصال کے واقعات کامتعددبارانکشاف ہو چکا ہے۔
فری سیکس میں پھنسی تحریک
فروری، 2009 میں کسانوں کی خود کشی کیلئے شہ سرخیوں میں رہنے والے ودربھ کے گڑھ چرولی ضلع میں نکسلیوں نے ایک خوفناک حملہ کیا تھا۔ 15 پولس اہلکاروں کو نکسلیوں نے بے رحمی سے تڑپا تڑپا کر مارا تھا اور خود صحیح سلامت بھاگنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ بعد میں پولس نے جنگلوں کی گہرائی سے خاک چھاننے کے بعد نکسلیوں کا کچھ سامان ہی برآمد کیا تھا۔ بھاگتے وقت نکسلی کثیر مقدار میں اپنا لٹریچر اور دوسرا سامان چھوڑ گئے تھے۔ اس سے نکسلیوں سے متعلق کچھ سنسنی خیز انکشاف ہوئے ہیں۔ جو کاغذات وہاں سے برآمد ہوئے تھے اس میں کچھ کاغذات ایسے بھی تھے جو نکسلیوں کے سرفہرست لیڈران کی طرف سے تنظیم میں بڑھ رہے فری سیکس کے ماحول کو صاف صاف بیان کر رہے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ نکسلی تنظیم کے اندر بھی اس آزاد جنسی درندگی پرتشویش پائی جاتی ہے۔
سیکس پاور کی دواؤں کاچلن عام
2011 میں بھی بہار اور جھارکھنڈ میں کئی خاتون نکسلیوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کے ساتھ کئی مرد نکسلیوں نے جسمانی تعلقات بنائے۔ جھارکھنڈ پولس نے نکسلی علاقوں سے مانع حمل سمیت سیکس پاور بڑھانے والی گولیاں،کنڈوم وغیرہ بھاری مقدار میں برآمد کئے تھے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نکسلی پالیسی ساز اپنی لڑائی کوعوامی تحریک کی شکل دینا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کیلئے تنظیم میں 40 فیصد خواتین کا ہونا ضروری ہے۔ اس مقصدکے تحت بڑی تعداد میں خواتین کو شامل کیا گیا تھا،انہیں ٹریننگ بھی دی گئی۔ کئی حملوں میں خواتین کا اہم کردار رہا۔ ایسا نہیں ہے کہ نکسل تحریک سے وابستہ زیادہ ترلوگ اس سے ناواقف ہیں۔ نکسلی لیڈر اس بات سے فکر مند ہیں جس کی تصدیق گڑھ چرولی واقعہ کے بعد برآمدکاغذات سے ہوتی ہے لیکن یہ حقیقت بھی سامنے آ رہی ہے کہ نکسل تحریک سے وابستہ ہونے والی خواتین اب پچھتا رہی ہیں،انہیں شدت سے یہ احساس ستانے لگاہے کہ نکسل رہنماؤں نے ان کے اعتمادکاخون کیاہے ۔ نکسلی رہنماؤں نے اس حیوانیت کاسخت نوٹس لیتے ہوئے مرد نکسلیوں کو خواتین سے دوری بنائے رکھنے کی ہدایت دی ہے۔تنظیم کے پالیسی سازوں نے نئے قوانین وضع کئے ہیں جنہیں نہیں ماننے پر سزا دینے کی تجاویزموجود ہیں۔
40 فیصد خواتین کو شامل کرنے کا منصوبہ ہنوزخواب
اس بات کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ نکسل باغیوں میں ایڈس کی صورتحال سنگین ہو رہی ہے۔ زیادہ تر نکسل لیڈر جانتے ہیں کہ سیکس اورجنسی بے راہ روی کاشکارہوکر تنظیم کے رکن خود کو کمزور کر رہے ہیں۔ ایچ آئی وی کا شکار ہو رہے ہیں۔ جنگل میں بھاگتے چھپتے جانچ اور علاج کوئی آسان کام نہیں ہے۔ جب یہ تلخ سچائیاں باہر جائیں گی تو تنظیم میں 40 فی صد خواتین کو شامل کرنے کا مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا اور لڑائی کبھی عوامی تحریک کی شکل نہیں لے سکے گی۔ دسمبر 2006 میں بھی یہ خبر آئی تھی کہ ودربھ کے گڑھ چرولی ضلع میں ہی جب نکسلی کیمپ پر پولس نے چھاپہ مارا تو وہاں سے کنڈوم، سیکس پاوربڑھانے والی دوائیں اور فحش فلم کی سی ڈیز وغیرہ بڑی مقدار برآمدہوئی تھیں۔
ایک خاتون پرجھپٹتے ہیں چار پانچ نکسلی درندے
تقریبا پانچ سال قبل ایک اور خبر آئی تھی، اندرا عرف پشپکلا نام کی ایک نکسلی خاتون نے پولس کے سامنے خود سپردگی کی تھی۔ خود سپردگی کے بعد اس نے پولس کو بتایا کہ اس کے ڈپٹی کمانڈر نے کئی باراس کی عصمت دری کی۔خاتون نے یہ بھی بتایا کہ تنظیم میں ہر خاتون کم سے کم چار پانچ نکسلیوں کی ہوس کی بھوک مٹانے یذمے داری نبھانے پرمجبور ہے۔ اس سے کئی خاتون شدید جنسی بیماریوں سے متاثر ہوچکی ہیں۔ 24 سالہ سونو نامی دوسری نکسل خاتون نے پولس کے سامنے خودسپردگی کی اس نے بھی کچھ اسی قسم کے درد کااظہارکیاتھا ۔ اس نے پولس کو بتایا کہ کم عمری ہی میں وہ نکسلی تحریک میں شامل ہو گئی تھی۔ اس وقت اسے اس بات کا قطعی اندازہ نہیں تھا کہ یہاں اس کے اپنے ہی اس کی آبرو تار تار کریں گے۔ اسے ایک نکسلی کمانڈر سے پیار ہوگیا،اس سے شادی کی۔ لیکناس کے برے دن تب شروع ہوئے جب اس کا نکسلی شوہر پولس مڈبھیڑ میں مارا گیا۔ اس کے بعد دوسرے ساتھیوں کی صرف نگاہوں تک نظر آنے والی جنسی ہوس حقیقت میں سامنے آ گئی۔ کئی نکسلیوں نے اس کے ساتھ اپنے ہوس کی بھوک مٹائی۔بالآخر سونو کو وہاں سے بھاگنا پڑااوراس نے اپنی سرگذشت سے پولس کو واقف کیا۔ سونو نے بھی پولس کو یہی بتایا تھا کہ تنظیم کی ہر عورت تین چار نکسلیوں کی کی ہوس کا شکار ہوتی ہے۔
موت کا زندہ شکار
چندبرس قبل پولس نے سوشیلا نام کی ایک نکسل سپاہی کوگرفتارکیا تھا۔ جب اسے گرفتار کیا گیا تو وہ شدید جنسی بیماری سفلس سے متاثر تھی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نکسلی تنظیم میں شامل ہر خاتون کی ایسی ہی درد بھری کہانی ہے۔ ان کے ذہن ودماغ میں تنظیم میں آنے کا پچھتاوا ہے۔ توکیا ان کیلئے حالات سانپ چھچھندر کی طرح ہیں۔اگروہ خود سپردگی کرتی ہیں تو باقی عمر جیل میں گزرنے کا خطرہ ہے اور تنظیم میں بغاوت کی تو اس کی سزا جیل سے مزید خوفناک ہوگی۔ گڑھ چرولی کے واقعہ میں پولس اہلکاروں کو تڑپا تڑپا کر بے رحمی سے مارنے والی نکسل کمانڈر بھلے ہی عورت تھی لیکن نہ جانے کتنی خواتین ہوس کا شکار ہو کر تنظیم میں ہر دن خود تڑپ تڑپ کر زندہ موت کا نوالہ بن رہی ہیں۔
محبت کی سزا نس بندی
نکسل متاثرہ چھتیس گڑھ میں جنگلوں کی خاک چھان رہے نکسلیوں کو محبت کی بھی سزا دی جاتی ہے۔ نکسلی یہاں محبت تو کر سکتے ہیں، لیکن اپنا گھر نہیں بسا سکتے۔کانکیر ضلع میں محبت کرنے والے نکسلی کمانڈروں کے مطابق شادی سے پہلے ہی ان کی زبردستی نس بندی کر دی جاتی ہے یعنی ہوس کی بھوک مٹانے کی توکھلی چھوٹ ہے مگرشادی کی اجازت نہیں۔ گزشتہ دنوں چھتیس گڑھ کے کانکیر ضلع میں سینئر پولس افسران کے سامنے خود سپردگی کرنے والے نکسلیوں نے نکسل رہنماؤں کے ذریعہ خواتین کے جنسی استحصال کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ محبت کرنے والے نکسلی ارکان سابق بستر ڈویژن کمیٹی کے رکن سنیل کمار متلام، اس کی بیوی اور کور کمیٹی کا کمانڈر جینی عرف جینتی، پرتاپور علاقے کے پبلک ملیشیا کمانڈر رام داس، اس کی بیوی پانی ڈوبیر (کوئلی بیڑا) ایل اوایس کی ڈپٹی کمانڈر سوشیلا، سیتا پور (کوئلی بیڑا) ایل اوایس کمانڈر جئے لال، اس کی بیوی سیتا پور ایل اوایس کی رکن آسمانی عرف سنائے اور راوگھاٹ میں سرگرم پلاٹون نمبر 25 کی رکن سامو منڈاوی نے اپنی آپ بیتی سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ جنگل میں ان کے ساتھ آندھرا پردیش کے نکسلی لیڈرحیاسوز سلوک تو کرتے ہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں محبت کرنے کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ سنیل (31 سال) نے بتایا کہ تین نکسلیوں نے اپنی بیوی کے ساتھ محبت کی تھی اور تینوں مردوں کی شادی سے پہلے ہی نس بندی کر دی گئی۔جب وہ 17 سال کا تھا تب نکسلی اس کے گاؤں پہنچے اور اسے اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔ نکسلیوں نے سشیل کو تربیت دی اور وہ سرگرم نکسلی رکن بن گیا۔ اس دوران وہ کئی وارداتوں میں شامل رہا جس میں کئی پولس اہلکار شہید بھی ہوئے۔ سنیل نے بتایا کہ جب وہ نکسلی رکن کے طور پر کام کر رہا تھا تب اسے چیتناناٹیہ منڈل کی کمانڈر جینی عرف جینتی کروٹی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ جینی سے اس کی جان پہچان ہوئی اور بعد میں یہ جان پہچان محبت میں بدل گئی۔ جب سنیل اور جینی نے شادی کرکے اپنا گھر بسانا چاہا تو نکسلی رہنماؤں نے اس کی محبت کو قبول کر لیا، لیکن اسے گھر بسانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ نکسلی رہنماؤں نے کہا کہ جب سنیل نس بندی کرا لے گا تبھی اسے جینی کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ جینی کو حاصل کرنے کے لئے سنیل نے ایسا ہی کیا۔ یہی صورت حال رام داس اور جئے لال کی بھی ہے۔ انہیں بھی محبت کرنے کی اجازت تو دی گئی لیکن جب شادی کی باری آئی تو ان کی نس بندی کر دی گئی۔ سنیل نے بتایا کہ یہی سلوک ان تمام نکسلیوں کے ساتھ ہوتا ہے جو جنگل میں کسی خاتون نکسلی سے محبت کرنے کی جسارت کرتاہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔سنیل نے بتایا کہ نکسلی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایک بار شادی ہو گئی اور بال بچے ہوئے تو نکسلی رکن اپنے بچے کی بہترپرورش وپرداخت کیلئے گھر لوٹ سکتے ہیں ،جس سے ان کی تحریک خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس سے بچنے کے لئے وہ پہلے مردوں کی نس بندی کر دیتے ہیں۔ مردوں کی ہی نس بندی کرنے کی وجوہات کے متعلق پوچھنے پر سنیل نے بتایا کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں کی نس بندی آسان ہوتی ہے۔ کانکیر کے پولیس اہلکار راہل بھگت کا کہنا ہے کہ پولس کو اس بات کی اطلاع مسلسل مل رہی تھی کہ جنگل میں مرد نکسلیوں کی زبردستی نس بندی کر دی جاتی ہے۔ اگر نکسلی رکن عام زندگی جینے اور بچے کے لیے نس بندی کرنا چاہتے ہیں تو پولس ان کی پوری مدد کرے گی اور اپنے خرچ پر ان کا آپریشن کروائیگی۔
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)